61

شیخ مجیب الرحمٰن ۔ ایک مستند گواہ کی گواہی

شیخ مجیب الرحمٰن ۔ ایک مستند گواہ کی گواہی

سوانح عمری کے انداز میں لکھی گئی یہ ایک عینی گواہ کی دلچسپ کتاب ہے جس میں نہایت مستند انکشافات کئے گئے ہیں۔ چشم دید گواہ کا بیان تاریخ کا حصہ تصور ہوتا ہے بشرطیکہ گواہ قابل اعتماد ہو۔ انکشافات کا ذکرکرنے سے پہلے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے اکثر لکھاری تحقیق کے بجائے جذباتی انداز سے فتویٰ جاری کردیتے ہیں اور تجزیے کے بجائے مخالفین کی القابات سے تواضح کرتے ہیں جس سے تاریخی مقدمات کا صحیح پس منظر نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ جب یہ کہا جائے کہ شیخ مجیب الرحمٰن پاکستان توڑنے کی تحریک کا سربراہ تھا اور وہ طویل عرصے سے ہندوستان کی مدد سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہا تھا، تو اس کے جواب میں مشرقی پاکستان کی محرومیوں یا بے انصافیوںکا ذکرکرکے ایشو کوکنفیوژ کردیا جاتا ہے۔ یہ درست ہے کہ بنگالی پاکستان پر اکثریت کے زور پر حکمرانی کاخواب دیکھتے تھے لیکن انہیں موقع نہ دیا گیا۔ یہ بھی درست ہے کہ مجیب نے تحریک ِ پاکستان میں کارکن کی حیثیت سے حصہ لیا تھا اور صدارتی انتخابات میں ایوب خان کے خلاف مادرِ  ملت کا حامی تھا وغیرہ وغیرہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ درپردہ ہندوستان سے رابطے میں تھا اور آزادبنگلہ دیش ہی اس کی منزل تھی۔ یہاں قابل غور بات یہ ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس کے تمام صوبے یا اکائیاں ایک جیسی خوشحال یا سیاسی ڈھانچے میں ایک جتنا وزن رکھتی ہیں لیکن اس سے ملک توڑنے کا جواز پیدا نہیں ہوتا۔ محب وطن لیڈران اتحادکے فریم ورک کے اندررہتے ہوئے اپنی اکائی یا صوبے کے حقوق کے لئے جدوجہد کرتے ہیں اورکبھی بھی دشمن قوتوں کو ساتھ ملا کر ملک توڑنے کی سازش نہیں کرتے۔ مثال کے طور پر مشرقی پاکستان کے بڑے اور اہم لیڈران تھے خواجہ ناظم الدین، فضل الحق، بھاشانی، سہروردی، نور الامین، محمد علی، ڈاکٹر مالک، فضل القادر، مولوی تمیز الدین وغیرہ۔ بھاشانی پر سوشلزم کی چھاپ تھی اور فضل الحق نے مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کلکتہ کے دورے کے دوران متحدہ بنگال کا مطالبہ کردیا، جو مشرقی پاکستان میں گورنر راج کا باعث بنا۔ ان کے علاوہ تمام لیڈران متحدہ پاکستان کے فریم ورک کے اندر رہ کر بنگالیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد میں یقین رکھتے تھے اور نہایت محب الوطن تھے۔ فروری 1948میں پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے اردو کو قومی زبان قرار دیا تو ان لیڈروں کی جدوجہد سے چند برسوں بعد بنگالی کو بھی قومی زبان قرار دے دیا گیا۔ جغرافیائی مجبوری کو سمجھتے ہوئے ان بنگالی لیڈروں نے 1958کی دستور سازی میں اہم کردار سرانجام دیا اور دونوں صوبوں کے درمیان آبادی کے بجائے برابری (پیرٹی) کے اصول کو تسلیم کیا۔ اگر 1958کا مارشل لا نہ لگتا تو 1956کے آئین کے تحت پاکستان ایک جمہوری اسلامی فلاحی ریاست کی حیثیت سے ابھرتا۔ مطلب یہ کہ ایک طرف وہ بنگالی قیادت تھی جو پاکستان کی سالمیت، اتحاد اور استحکام میں ’’ایمان‘‘ رکھتی تھی اوردوسری طرف شیخ مجیب الرحمٰن تھا جو قومی سیاست میں متحرک تھا۔ مشرقی پاکستان کی کابینہ میں وزیر بھی رہا لیکن باطنی طور پر آزاد بنگلہ دیش کا حامی تھا۔ مجھے اپنے ان دوستوں پر تھوڑی سی حیرت ہوتی ہے جو مجیب الرحمٰن کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ جاری کرتے ہیں کیونکہ خود مجیب الرحمٰن نے ببانگ دہل 6جنوری 1972کے دن برطانوی صحافی ڈیوڈ فروسٹ کو ٹی وی کے لئے انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ’’میں 1948سے آزاد بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کام کر رہا تھا‘‘ کیا ان حضرات کا سرٹیفکیٹ مجیب الرحمٰن کے اپنے اعتراف پر بھاری یا مقدم ہے۔ کسی بھی اصول کے تحت لیڈر کا اپنا اعتراف زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے۔ مجیب الرحمٰن کے دعوے کی حمایت اس کی بیٹی حسینہ واجد نے بھی چند برس قبل اپنے انٹرویو میں کی اور انکشاف کیا کہ جب وہ اپنے والد کے ساتھ لندن کے ایک اپارٹمنٹ میں رہ رہی تھی تو وہاں ہندوستانی ’’را‘‘ کے افسران آیا کرتے تھے جن سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے منصوبہ سازی ہوتی تھی۔ کیا دشمن ملک کے ساتھ سازباز کرکے اپنا ملک توڑنا حب الوطنی ہے؟ مجیب دعویٰ کرتا ہے کہ وہ 1948سے بنگلہ دیش کے قیام کے لئے کام کر رہا تھا۔ اس وقت مشرقی پاکستان سے کون سی زیادتیاں ہوئی تھیں جنہوں نے اسے یہ جواز مہیا کیا؟ جواز ہو بھی تو حب الوطنی کا تقاضا ملکی اتحاد کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنا ہوتا ہے نہ کہ ملک توڑنا۔
شیخ مجیب الرحمٰن کے عزائم ’’را‘‘ سے تعلقات، ہندوستانی حمایت اور یلغارپر کئی کتابیں ہندوستان، انگلستان اور وسرے ممالک میں چھپ چکی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ ہندوستان کی مالی، سیاسی اور فوجی مدد کے بغیر مجیب الرحمٰن کبھی بھی اپنے ارادوں میں کامیاب نہ ہوسکتا۔ یہ موضوع تفصیلی بحث کا متقاضی ہے فی الحال اس سلسلے کی ایک اہم کتاب کےانکشافات پیش کرنے کاارادہ رکھتا ہوں۔ یہ کتاب اہم اس لئے ہے کہ اس میں ایک چشم دید بلکہ اس سازش میں شامل ایک اہم کردار کے اعترافات شامل ہیں۔ یہ کتاب مجھے لندن سے ایک عزیزدوست ڈاکٹر جاوید رضوی نے بھجوائی ہے اور اس کانام ہے “”India, Mujib-ur-Rehman, Bangladesh Libration & Pakistan.
اس کتاب کا مصنف Sashanka Baner Jee ہے جو ڈھاکہ کے ہندوستانی قونصلیٹ میں پولیٹیکل آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھا۔ پولیٹیکل آفیسر کا مطلب انٹیلی جنس آفیسر ہوتاہے۔ وہ لکھتا ہے کہ 25دسمبر 1962کو جب وہ کرسمس پارٹی سے فارغ ہوکر نصف شب کو گھر پہنچا تو پیغام ملا کہ ڈھاکہ کے ممتاز اخبار ’’اتفاق‘‘ کے ایڈیٹر مانک میاں (تفضل حسین) بلا رہے ہیں۔ ’’اتفاق‘‘ کا دفتر قریب ہی تھا۔ میں وہاں گیا تو مانک میاں نے شیخ مجیب الرحمٰن سے میرا تعارف کروایا جو وہاں پہلے سے موجود تھے۔دو گھنٹے کی اس ملاقات میں مانک میاں نے وضاحت کی کہ وہ دراصل اٹانومی (صوبائی خودمختاری) کی آڑ میں بنگلہ دیش کے قیام کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ مجیب الرحمٰن نے کہا کہ اسے اپنی جدوجہد کے لئے ہندوستان کی مدد کی ضرورت ہے۔ پھر مجیب نے مجھے ہندوستان کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو کے نام ایک خط دیا جسے ڈپلومیٹک بیگ سے بھجوایا جانا تھا۔ اس خط میں بنگلہ دیش کی آزادی کا روڈ میپ دے کر ہندوستان سے ہر قسم کی مدد کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ میں نے اپنے باس کو خط دکھا کر بیگ کے ذریعے دلّی بھجوادیا۔ مجیب نے یہ بھی لکھا تھا کہ وہ نہرو سے خفیہ ملاقات کرنا چاہتا ہے اور لندن شفٹ کرکے یکم فروری 1963کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان کردے گا اور عبوری حکومت قائم کردے گا جبکہ مانک میاں ڈھاکہ میں رہ کراپنے اخبار کے ذریعے لوگوںمیں آزادی کا شعور بیدارکرتا رہے گا۔ وزیراعظم نہرو نے خط ملتے ہی اپنے انٹیلی جنس چیف سےمیٹنگ کی اور پھراپنے سیکورٹی مشیران سے مشورہ کر کے مجیب کو پیغام بھیجا کہ ہم حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ دراصل چین سے شکست کی ذلت اٹھانے کے بعد نہرو پریشان تھا لیکن اس کے باوجود اس نے مجیب کے خط کو حد درجہ اہمیت دی۔ جواب آنے میںکچھ تاخیرہوئی تو مجیب صبر نہ کرسکا اور بغیر پاسپورٹ بارڈر کراس کرکے ہندوستانی ریاست اگرتلہ چلا گیا اور اگر تلہ کے وزیراعلیٰ سے ملاقاتیںکرکے یہی استدعا اس سے بھی کی۔ مجیب واپس آیا تو میں نے اسے وزیراعظم نہرو کا پیغام دیا کہ ’’ہندوستان آپ کی پوری مدد کرے گالیکن فی الحال بین الاقوامی صورتحال موزوں نہیں۔ لندن جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ آپ ڈھاکہ میں رہ کرکام کریں اور وزیراعظم نہرو سے رابطہ کے لئے صرف ڈھاکہ کے ہندوستانی ڈپلومیٹک مشن کو استعمال کریں۔ جلد بازی نہ کریں مناسب موقع کا انتظار کریں۔ جس دن آپ کے جلسے میں دس لاکھ لوگ آگئے آپ لیڈر بن جائیں گے۔ آپ سیاسی قوت میں اضافہ کے ساتھ ساتھ چندہ مہم شروع کریں۔ ہندوستان مالی امدادبھی دے گا اور راہنمائی بھی کرے گا۔‘‘ وہ لکھتا ہے کہ ’’اس دوران مشرقی پاکستان کے انٹیلی جنس بیورو کومجیب کی اگرتلہ یاترا کا پتا چل گیا اورمجیب گرفتار ہو گیا۔ مقدمہ چلتا رہا اور اس نے مجیب کو ایک انقلابی لیڈر بنا دیا۔ ایوب خان کے خلاف تحریک چلی تو دبائو کے تحت فروری 1969 میںمجیب کو رہا کردیا گیا۔ مجیب کا چھ نکاتی پروگرام بھی ملک توڑنے کا خاکہ تھا۔ جنرل یحییٰ خان اقتدارمیںآیا۔ ’’ون مین ون ووٹ‘‘ کی بنیاد پر انتخابات ہوئے، اقتدار منتقلی کی بجائے مارچ میں آرمی ایکشن ہوا۔ دسمبر 1971میں ہندوستانی فوج نے مشرقی پاکستان فتح کرکے بنگلہ دیش بنا دیا۔ ‘‘مصنف لکھتا ہے کہ اسے حیرت ہے کہ کس طرح تھوڑے عرصے میں ہندوستان کے روڈمیپ پر عمل ہوا اور مشن پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ میں نے بہت اختصار سے کام لیا ہے بہرحال اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہماری سیاسی غلطیوں اور آمریتوں نے مجیب کا کام آسان بنا دیا لیکن یہ ایک تاریخی سچ ہے کہ مجیب علیحدگی چاہتا تھا اور ہندوستان کی مدد سے آزاد بنگلہ دیش کے قیام کےلئے طویل عرصے سے جدوجہد کر رہا تھا جس کی تصدیق بہت سے مستند ذرائع سےہوتی ہے۔
اب آپ کو اس سوال کا جواب مل گیا ہوگا کہ مجیب کی سیاسی وارث حسینہ واجد اتنے طویل عرصے کے بعد کیوں ان حضرات کو پھانسی پر چڑھا رہی ہے جنہوں نے 1971میں پاکستان کو متحد رکھنے کےلئے جدوجہد کی اور 1947میں ہجرت کرکے آنے والے بہاریوںکو مہاجرین کیمپوںمیں کیوں رکھا ہوا ہے ا ور انہیں شہریت دینے سے کیوں انکاری ہے۔ مجیب کاانجام دنیا نے دیکھا اب دیکھئے اس کی جانشین کا انجام کیا ہوتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply