15

‘شاہ رخ خان کو اتنخابی مہم چلانے کے لیے نہیں کہوں گی’

نور جہاں

تصویر کے کاپی رائٹ
Zahid Imdadullah

Image caption

نور جہاں کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ شاہ رخ خان سے تعلق کی وجہ سے انتخابی مہم کے دوران انھیں یا شاہ رخ کو کوئی مسئلہ ہو

خیبر پختونخوا کے شہر پشاور کے اندرون میں جب قصہ خوانی بازار کی طرف سے داخل ہوں تو تنگ گلیاں اور لکڑی سے بنی پرانے گھر آپ کا استقبال کرتے ہیں۔

انھی تنگ گلیوں میں نارنجی رنگ کے ایک چھوٹے سے مکان میں بالی وڈ کے مشہور اداکار شاہ رخ خان کے چچا کی بیٹی نور جہاں اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہیں۔

نور جہاں پاکستان میں 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 77 کے الیکشن کے لیے میدان میں اتری ہیں اور بدھ کو ان کے کاغذاتِ نامزدگی بھی منظور کر لیے گئے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھیں پوری امید ہے کہ وہ یہ جیت سکتی ہیں۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی ان کے کزن پاکستانی عوام میں بہت مقبول ہیں شاہ رخ خان کو اپنی انتخابی مہم کا حصہ بننے کے لیے نہیں کہیں گی۔

نور جہاں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے لیے یا پھر شاہ رخ کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہو کیونکہ پاکستان اور انڈیا کے تعلقات اتنے اچھے نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Noor Jehan

Image caption

نور جہاں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ ان کے لیے یا پھر شاہ رخ کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہو

’انتخابی مہم کے لیے شاہ رخ خان کو نہیں کہوں گی کیونکہ میں ہمیشہ امن چاہتی ہوں اور میرے کہنے سے شاید کوئی مسئلہ پیدا ہو۔ خود اور اپنے علاقے کے لوگوں کے مدد سے الیکشن مہم چلاؤں گی۔‘

خیال رہے کہ نور جہاں کے الیکشن لڑنے کی خبر عام ہونے کے بعد انڈیا میں شاہ رخ خان کو سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نور جہاں کا کہنا تھا کہ وہ ایوان میں جا کر خواتین پر گھریلو تشدد کے مسئلے کو اٹھایا چاہتی ہیں اور منتخب ہو کر اس سلسلے میں قانون سازی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیں گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ خواتین کو جائیداد سے محروم رکھنے والے لوگوں کے حوالے سے بھی سخت قانون سازی کی حامی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Noor Jehan

Image caption

شاہ رخ خان کے بچپن کی تصویر

انھوں نے کہا کہ جس معاشرے میں وہ رہ رہی ہیں وہاں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں الیکشن لڑنے کے بہت کم مواقع ملتے ہیں اور ان کے انتخابی میدان میں اترنے کی ایک وجہ یہ فرق بھی ہے۔

’آج اگر میں الیکشن نہیں لڑوں گی تو پھر کون آگے آئے گا۔ کسی کو تو یہ قدم اٹھانا ہو گا۔‘

اس سوال پر کہ شاہ رخ خان سے ان کی ملاقات کب ہوئی نور جہاں کا کہنا تھا کہ وہ 1997 اور 2011 میں انڈیا گئیں اور جبھی شاہ رخ سے ملی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان ملاقاتوں میں شاہ رخ نے پشاور آنے کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔

نور جہاں نے بتایا کہ 1946 میں تقسیم سے قبل ان کے جو تین چچا زندہ تھے ان میں سے صرف شاہ رخ کے والد نے ہی بمبئی جانے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ باقی افراد پشاور میں ہی رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Noor Jehan

Image caption

نور جہاں کے الیکشن لڑنے کی خبر عام ہونے کے بعد انڈیا میں شاہ رخ خان کو سوشل میڈیا پر شدید ٹرولنگ کا سامنا کرنا پڑا تھا



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply