29

شاہراہ دستور پر مظاہرین کی خیمہ بستی میں زندگی رواں دواں

تصویر کے کاپی رائٹ
AP

Image caption

خرم نواز گنڈاپور کے مطابق کھانے پینے کے علاوہ جو سب سے بڑی ذمہ داری ہے وہ ان دس ہزار افراد کو رہائش فراہم کرنا ہے جو کہ انھیں مخیر افراد کی مدد سے با آسانی دے دی گئی ہے

اسلام آباد میں اہم عمارتوں کے گرد حفاظتی نقطۂ نظر سے بنائے گئے ریڈ زون کے مرکز ڈی چوک میں وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ کرنے والے مظاہرین کو دھرنا دیے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ ہو چلا ہے۔ اس دوران پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ایک باقاعدہ خیمہ بستی آباد ہو چکی ہے جس میں روز مرہ کے معمولات اور ان پر اٹھنے والے اخراجات ایک منظم رہائشی کالونی کے طور پر چلائے جا رہے ہیں۔

پانچ ہفتے قبل شاہراہ دستور پر پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پڑاؤ ڈالنے والے اس احتجاجی قافلے کے حالات اس وقت خاصے مختلف تھے۔ بے سرو سامانی کا عالم تھا، دھوپ اور بارش سے بچاؤ کا بندوبست نہیں تھا، بیت الخلا کی سہولت نہ ہونے کے باعث گندگی سے بیماریاں پھیل رہی تھیں جن کےعلاج کی کوئی صورت نہیں تھی، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دھرنا دیے بیٹھے خواتین و حضرات کے لیے کھانے پینے کا معقول بندوبست نہیں تھا۔

پانچ ہفتے بعد یہاں حالات بہت بدل چکے ہیں۔

شاہراہ دستور کے ڈی چوک میں سڑک کے ساتھ ساتھ ترتیب کے ساتھ خیمے نصب ہیں جنھیں دھوپ اور موسم کی شدت سے بچانے کے لیے ان پر پلاسٹک کی شیٹیں چڑھا دی گئی ہیں۔ ہر خیمے کا ایک نمبر ہے جس کے ذریعے اس میں رہائش پذیر افراد کی شناخت ہوتی ہے اور اسی کی بنیاد پر انھیں راشن اور دیگر امدادی سامان مہیا کیا جاتا ہے۔

لاھور سے آنے والے 72 سالہ محمد حنیف نے ڈی چوک پہنچنے کے فوراً بعد کے حالات کا آج کے دن سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ شروع کے دنوں میں نہ بارش سے بچاؤ کا بندوبست تھا اور نہ دھوپ سے: ’پہلے تین چار دن تو دھوپ سے بچنے کے لیے درختوں کے نیچے بیٹھے رہے یا کپڑے تان کر سورج سے بچنے کی کوشش کرتے رہے اور گرم سڑک پر بیٹھنا پڑا۔ اب تو ماشا اللہ حالات بہت بہتر ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ بہترین ٹینٹ ہے، موسم کی شدت کا بھی اس طرح سامنا نہیں ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

لاھور سے آنے والے بہتر سالہ محمد حنیف نے ڈی چوک پہنچنے کے فوراً بعد کے حالات کا آج کے دن سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ شروع کے دنوں میں نہ بارش سے بچاؤ کا بندوبست تھا اور نہ دھوپ سے

پاکستان عوامی تحریک کے اس دھرنے کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شاہراہ دستور پر لگے خیموں میں دس ہزار لوگ رہائش پذیر ہیں جنہیں تین وقت کا کھانا انتظامیہ کی جانب سے فراہم کیا جاتا ہے۔

عوامی تحریک کے سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے بی بی سی کو بتایا کہ ان دس ہزار افراد کے ایک دن کے کھانے پر سات لاکھ روپے خرچ ہوتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ دھرنے میں شریک افراد کے یہ اخراجات مخیر افراد برداشت کر رہے ہیں:

’ہمارے پاس طویل فہرست ہے ان لوگوں کی جو دھرنے میں بیٹھے لوگوں کی خدمت کے جذبے سے انھیں کھانا کھلانا چاہتے ہیں۔ ان میں ملک کے باہر سے تحریک کے ہمدرد بھی شامل ہیں۔ مثلاً پچھلے چار دن سے تین وقت کا کھانا برطانیہ میں مقیم عوامی تحریک کے ساتھیوں نے اپنے ذمہ لیا ہوا تھا۔‘

خرم نواز گنڈاپور کے مطابق کھانے پینے کے علاوہ جو سب سے بڑی ذمہ داری ہے وہ ان دس ہزار افراد کو رہائش فراہم کرنا ہے جو کہ انھیں مخیر افراد کی مدد سے با آسانی پوری کر دی گئی ہے:

’ہمارے پاس لگے بیشتر خیمے عطیے کے طور پر ہمیں اس وقت ملے تھے جن دنوں اسلام آباد میں تیز بارشیں ہو رہی تھیں۔ اس کے علاوہ بہت سے لوگوں نے اپنے طور پر بھی ٹینٹ لے کر آئے تھے۔ بہت کم ایسے لوگ ہیں جنھیں ہم نے اپنے طور پر خیمے لگا کر دیے ہیں۔‘

اس خیمہ بستی میں رہائش پذیر تمام لوگ اس عوامی لنگر سے کھانا نہیں کھاتے۔

43 سالہ محمد سرور اپنی بیوی، تین سالہ بیٹی اور ایک دوست کے اتنے ہی بڑے خاندان کے ساتھ ایک خیمے میں گذشتہ 40 دن سے رہائش پذیر ہیں۔ خیمہ کیا ہے تین بیڈ روم کا گھر ہے جس میں بچوں کا سونے اور پڑھنے کا الگ کمرہ، ڈرائنگ روم اور کھانا کھانے اور پکانے کے الگ الگ کمرے ہیں۔

لاہور میں کاروبار کرنے والے محمد سرور کہتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ یہ سارا اہتمام انھوں نے خود کیا ہے بلکہ وہ طاہر القادری کی تنظیم کے رکن کی حیثیت سے انھیں چندہ بھی دیتے ہیں۔

’کھانا ہم خود ہی پکاتے ہیں۔ اسلام آباد کے بازار سے بیگم کو سامان لا دیتا ہوں اور ایک دن میری بیوی اور ایک دن میرے دوست کی بیوی کھانا بناتی ہے اور ہم سب مل کر کھاتے ہیں۔ صفائی بھی خود کرتے ہیں اور بچوں کے کھیلنے کے لیے کھلونوں کا انتظام بھی یہیں آ کر کیا ہے۔‘

اس کیمپ کے انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے ایک مرکزی کنٹرول روم بنایا گیا ہے جس کے انچارج محمد جواد حامد کہتے ہیں ہر شعبے کی الگ انتظامی کمیٹی ہے جو اپنی اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتی ہے۔ ان کمیٹیوں کی نگرانی اور آپس میں رابطے کے لیے کنٹرول روم کو استعمال کیا جاتا ہے۔

’ہم اس کیمپ کا انتظام کمیٹیوں کے ذریعے چلاتے ہیں۔ ان میں کھانا بنانے اور تقسیم کی نگران کمیٹی، سکیورٹی کمیٹی، خواتین اور مردوں کو سہولیات فراہم کرنے کی الگ الگ کمیٹی، بیت الخلا اور پانی کا انتظام کرنے کے لیے الگ کمیٹی ہے۔‘

مہر الطاف حسین اس کیمپ میں پچھلے ہفتے قائم ہونے والے رجسٹریشن سنٹر کے سربراہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پانچ روز میں 70 ہزار افراد نے ان کے پاس باقاعدہ فارم جمع کروا کر اپنا رجسٹریشن کارڈ حاصل کیا ہے:

Image caption

اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر لگے ان خیموں کی وجہ سے ابتدائی چند روز تک اس اہم سڑک پر آمد و رفت معطل ہو گئی تھی، تاہم اب ٹریفک بحال ہو چکی ہے

’رجسٹریشن کا ایک مقصد تو ان لوگوں کی پہچان ہے جو اس دھرنے میں ڈاکٹر قادری کے ساتھ ہیں اور دوسرا ان کے ساتھ مستقبل میں بھی براہ راست رابطہ رکھنا ہے تاکہ جماعت کی سرگرمیوں سے انھیں آگاہ رکھا جا سکے۔‘

اسلام آباد کی شاہراہ دستور پر لگے ان خیموں کی وجہ سے ابتدائی چند روز تک اس اہم سڑک پر آمد و رفت معطل ہو گئی تھی جس کی وجہ سے اس شاہراہ پر قائم سرکاری عمارات میں کام کرنے والے عملے کو دفتر پہچنے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

اب دھرنے اور شہر کی انتظامیہ نے مل کر اس مسئلے کا حل بھی نکال لیا ہے۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں کام کرنے والے سرکاری ملازم مناظر حسین نے بتایا کہ دھرنا شروع ہونے کے ابتدائی چند روز تک تو وہ دفتر آ ہی نہیں سکے لیکن اب معمول بحال ہو چکا ہے:

’شروع میں تو یہ سڑک بھی بند تھی اور ہمیں ڈر بھی تھا کہ یہاں سے گزریں گے تو یہ لوگ پتہ نہیں کیسا برتاؤ کریں۔ اب تو جیسے پہلے موٹر سائیکل پر یا بس میں دفتر آتے تھے ویسے ہی آ جاتے ہیں۔ ان لوگوں نے سڑک کا ایک حصہ خالی چھوڑا ہوا ہے اس پر ان کے بیچ میں سے گزر کر آجاتے ہیں اور کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply