77

شاہد مسعود کی ’میں نہ مانوں‘

شاہد مسعود کی ’میں نہ مانوں‘

اتوار کو سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری میں جیسے میڈیا کا میلا سجا تھا۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے زینب قتل کیس کی سماعت اتوار کو سپریم کورٹ کی تو میڈیا چینلز کے مالکان سے لے کر مشہورو معروف اینکرز، ہر چینل سے کم سے کم دو یا تین رپورٹرز، اتنے ہی کیمرہ مین اور متعدد ڈی ایس این جی وینز۔ گویا کسی میراتھان کی تیاری ہو۔

عدالتی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے زیادہ تر کیمرہ مین تو عدالت کے باہر ہی ایک ٹیڑھی میڑھی قطار میں کھڑے ہو گئے لیکن چند جوشیلے نوجوانوں نے سوچا کہ باقیوں سے کچھ الگ کیا جائے۔ تو انہوں نے اورنج لائن کیلئے بنے ایک کنٹینر پر چڑھ کر کیمرے لگا لئے تاکہ اونچائی کے زاویئے سے شاید کچھ خفیہ یا خوبصورت فوٹیج بن سکے۔

دوسری جانب عدالت کے اندر بھی یہی `کچھ الگ کرنے` کا جذبہ رپورٹرز میں بھی نظر آیا۔ آخر سب سے پہلے بریکنگ نیوز کا تاج بھی تو لینا تھا اور اگر پیچھے رہ گئے تو ڈیسک سے مفت کی ڈانٹ بھی پڑے گی۔ زینب قتل کیس کی اہمیت کہہ لیں یا لوگوں کی ڈاکٹر شاہد مسعود کے دعوے میں دلچسپی، عدالت میں ایک وقت ایسا آیا کہ واقعی تل دھرنے کی جگہ بھی نہیں تھی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت شروع کی تو ابتدا میں ہی سرکاری وکیل نے کہہ دیا کہ ڈاکٹر شاہد مسعود کا دعوی کہ زینب قتل کیس کے ملزم عمران کے 37 بینک اکاونٹ ہیں، ثابت نہیں ہوا۔ جے آئی ٹی کے سربراہ سے بات کرنے کے بعد چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد مسعود کو بولنے کا موقع دیا۔

لاہور

ڈاکٹر شاہد مسعود نے دس منٹ کی مہلت مانگی، لیکن تمہید ہی اتنی لمبی تھی کہ اس کے بعد کسی کو وقت کا خیال ہی نہیں رہا۔ ڈاکٹر شاہد نے ہر وہ بات کی جس سے اس کیس کا کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی تعلیم کہاں سے حاصل کی، کونسے ادارے میں کونسی پوسٹ پر کتنے سال کام کیا اور کون سی بڑی خبریں بریک کیں۔ جج صاحبان نے ایک دو بار ڈاکٹر شاہد مسعود کو ٹوکا بھی کہ آپ اصل مسئلے پر بات کریں لیکن یوں لگ رہا تھا کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک نہ ختم ہونے والی کتھا شروع کر لی ہو۔

زینب کی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر ڈاکٹر شاہد اپنے اعتراضات ظاہر کر رہے تھے کہ اسی دوران جسٹس ثاقب نثار نے ان کو روک کر پوچھا کہ آپ جے آئی ٹی میں پیش کیوں نہیں ہوئے۔ تو ڈاکٹر شاہد نے جے آئی ٹی ممبران پر اعتراض کرتے ہوئے دہائی دی کہ `میرا بھی پوسٹ مارٹم ہوتا ہے۔ کیا سارے پوسٹ مارٹم ڈاکٹر ہی کرتے ہیں؟`

میڈیا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ ان کو ہر طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

اس کے بعد عدالت نے میاں عامر محمود، ضیا شاہد، مجیب الرحمان شامی، عارف نظامی، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی، سلیم بخاری، کاشف عباسی، حامد میر، فہد حسین، آئی اے رحمن، کامران خان، عارف حمید بھٹی، منصور علی خان اور مظہر عباس سے پوچھا کہ اگر ڈاکٹر شاہد مسعود کی خبر غلط نکلی تو کیا کرنا چاہیے۔

شاہد مسعودتصویر کے کاپی رائٹTWITTER
Image captionڈاکٹر شاہد مسعود نے حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا تھا

دنیا میڈیا گروپ کے مالک میاں عامر محمود نے کہا کہ `ایک شخص میڈیا پر آکر کہہ دیتا ہے کہ ہماری بیٹیوں کی ویڈیوز چل رہی ہیں۔ ہم نے ان کو ایسا کرنے کی اجازت ہی کیوں دے رکھی ہے؟`

میاں عامر کی اس بات پر ڈاکٹر شاہد کو غصہ آیا اور ان دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی جس پر چیف جسٹس نے ڈاکٹر شاہد کو مزید کسی سپیکر سے بات کرنے سے روک دیا۔

جہاں حامد میر سمیت چند اینکرز نے عدالت سے درخواست کی کہ ڈاکٹر شاہد اگر اپنی بات ثابت نہیں کر پاتے تو انکو معافی کا موقع بھی ملنا چاہیے، وہی ان میں کچھ اینکرز کا کہنا تھا کہ ٹاک شوز میں غیر مصدقہ رپورٹنگ روز کا معمول بن گیا ہے اس لیے میڈیا کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ اس تمام بحث مباحثے میں میڈیا ممبران کے درمیان موجود ایک واضح اختلاف نظرآیا۔

جیو گروپ کے مالک میر شکیل الرحمان کے عدالت میں نہ آنے پر چیف جسٹس نے کہا کہ جب عدالت بلائے تو آنا چاہیے۔ ڈان نیوز کے مالک حمید ہارون، نوائے وقت سے رمیزہ مجید نظامی اور سٹی فورٹی ٹو گروپ کے مالک محسن نقوی بھی عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔

اینکرز اور مالکان کے بعد دوبارہ ڈاکٹر شاہد کو بولنے کا موقع دیا گیا تو اس بار انھوں نے اپنا موقف ہی بدل دیا۔ عدالت کو کہا کہ میں نے خبر نہیں دی، صرف معلومات دی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘میں تو یہاں مجرم کی طرح پیش ہو رہا ہوں۔’

اس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اگر ’آپ غلط ثابت ہوئے تو آئندہ ایسا کرنے کے قابل نہیں رہیں گے‘۔ جواباً شاہد مسعود نے کہا ’تو مجھ پر پابندی لگا دیں‘۔ چیف جسٹس مسکرائے اور کہا کہ ’اب یہ پابندی سے آگے کی بات ہے‘۔

اخباراتتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES

عدالتی کاروائی نے تفتیش کا رخ لیا تو ڈاکٹر شاہد مسعود عدالت سے باہر آ گئے۔ ان کے باہر آتے ہی منچلوں کا ایک گروہ ان کی طرف سیلفیاں بنوانے کیلئے بڑھا تو وہیں کاشف عباسی، حامد پیر اور عارف حمید بھٹی نے کوشش کی کہ ڈاکٹر شاہد کو عدالت سے معافی مانگنے پر قائل لیں۔ کبھی آہستہ آواز میں تو کبھی کسی جوشیلی دلیل، ان تینوں نے کافی دیر ڈاکٹر شاہد کو منایا لیکن ڈاکٹر شاہد بضد تھے کہ میں نہ مانوں گا۔

ڈاکٹر شاہد نے کہا کہ یہ ایک ڈویلپنگ سٹوری ہے اور وہ اپنی بات پر قائم ہیں۔ یہ کہہ کر وہ تو چلے گئے لیکن باقی میڈیا ممبران کیمرے کے سامنے ان کی صفائیاں دیتے رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply