12

شام پر مزید میزائل حملوں سے افراتفری پیدا ہو گی: پوتن

روس ایران

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے جانب سے شام پر حملے کے حوالے سے روس نے کہا ہے کہ شام پر مزید میزائل حملوں سے بین الاقوامی تعلقات میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے یہ بات ایرانی صدر حسن روحانی سے فون پر گفتگو کے دوران کہی۔

ایران اور روس کے صدور کا یہ بھی ماننا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے شام پر میزائل حملے سے شام میں جاری تنازع کے سیاسی حل کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچا ہے۔

شام پر حملے کے بارے میں مزید پڑھیے

شام پر دوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہیں: صدر ٹرمپ

ٹوماہاک میزائل: کتنے ہدف تک پہنچے، کتنے تباہ کیے گئے؟

امریکہ اور اتحادیوں کا شام پر حملہ

خیال رہے کہ سنیچر کی رات امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک برطانیہ اور فرانس نے شام کے علاقے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں تین مقامات پر میزائلوں سے حملہ کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر کیے جانے والے اس حملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ‘گذشتہ رات بے عیب سٹرائیک کی۔ فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ان کی دانشمندی اور ان کی اچھی فوجی طاقت کی۔ اس سے بہتر نتائج نہیں آ سکتے تھے۔ مشن مکمل ہو گیا۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

دوسری جانب خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے اتوار کو کہا ہے کہ امریکہ اس وقت تک اپنی افواج شام سے نہیں نکالے گا جب تک اس کے مقاصد پورے نہیں ہو جاتے۔

نکی ہیلی نے فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے تین امریکی مقاصد بتائے جن میں ایک اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال امریکی مفاد کے لیے خطرہ نہ بنیں۔

ان کے مطابق امریکہ کا دوسرا مقصد شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کو شکست دینا اور تیسرا مقصد یہ ہے کہ شام اس کے لیے ایک ایسی اچھی جگہ ہے جہاں سے وہ ایران پر نظر رکھ سکتا ہے۔

نکی ہیلی نے کہا کہ ’امریکی فوجیوں کو واپس بلانا ہمارا مقصد ہے لیکن ہم تب تک شام نہیں چھوڑیں گے جب تک ہم ان چیزوں کو مکمل نہیں کر لیتے۔‘

اس سے قبل اتوار ہی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام نے اپنے شہریوں پر مزید کیمیائی حملے کیے تو امریکہ اس پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے ‘پوری طرح تیار ہے’۔

ادھر شامی صدر بشار الاسد نے روسی ماہرین قانون کے ایک گروپ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک پر مغربی ممالک کی جانے سے میزائل حملہ جارحیت تھی۔

صدر بشار الاسد کے دفتر نے ان کے حوالے سے کہا ہے کہ ’شام کے خلاف سہ ملکی جارحیت کے ساتھ ساتھ غلط معلومات کی مہم چلائی جا رہی ہے۔‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply