13

شام پر حملے کا قانونی جواز کیا ہے؟

شام پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

امریکہ، برطانیہ اور فرانس کا کہنا ہے کہ شام میں ان کے فضائی حملے کا مقصد کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے خلاف بین الاقوامی پابندی کا اطلاق، صدر بشارالاسد کے کیمیائی اسلحے کو تباہ کرنا اور شام میں عوام کے خلاف مزید کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا تھا۔

برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا کہ برطانیہ ہمیشہ اپنے قومی مفاد میں عالمی قواعد و ضوابط کی پاسداری کے لیے عمل کرتا رہا ہے۔

تاہم حملے کے بعد برطانوی حکومت نے جو قانونی جواز پیش کیا اس میں شام کے عوام کو مزید نقصانات سے بچانے پر توجہ مرکوز کی گئی تھی۔

اسی بارے میں

شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟

شام پر دوبارہ حملے کے لیے پوری طرح تیار ہیں: صدر ٹرمپ

قانونی طور پر بین الاقوامی قانون زبردستی لاگو کرنے سے دنیا ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے چارٹر سے پہلے کے دور میں پہنچ جائے گی۔

اس چارٹر میں ملکوں کو اپنے دفاع میں طاقت کے استعمال کا حق دیا گیا ہے، اور ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے اس صورت میں بھی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے اگر کسی ملک کی آبادی کو اس کی اپنی ہی حکومت کے ہاتھوں تباہی کا خطرہ ہو۔

اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ بین الاقوامی سکیورٹی کو برقرار رکھنے کے لیے بھی طاقت استعمال کی جائے۔ تاہم ایسے اقدامات کے لیے سلامتی کونسل کی تائید درکار ہے۔

اس بندوبست کی مدد سے ملکوں کو کسی فوری خطرے کے پیشِ نظر اپنے دفاع کی خاطر طاقت کے استعمال کا حق دینے کے ساتھ ساتھ یہ توازن بھی رکھا گیا ہے کہ طاقت کو بین الاقوامی سیاست کے آلے کے طور پر نہ برتا جا سکے۔

اسی لیے 1945 کے بعد سے بین الاقوامی قانون کسی حملے کا جواب دینے کے لیے کسی ملک کو سبق سکھانے کی خاطر اس پر انتقاماً بمباری نہیں کر سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

حملے کے بعد صدر اسد کے حامیوں نے جلوس نکالا

اسی لیے 1981 میں جب اسرائیل نے عراق کے ایٹمی ری ایکٹر پر حملہ کیا تو سلامتی کونسل نے اسرائیل کی مذمت کی تھی۔ اسی طرح 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کے جواب میں سوڈان کے مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے کارخانے پر حملے پر تنقید کی گئی تھی۔

اب شام پر حالیہ حملے کے باعث ان ملکوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کی پاسداری کروانے کا ذمہ اپنے سر لے لیا ہے۔ شام 2013 میں اس کنونشن کا حصہ بنا تھا جس کے تحت کیمیائی ہتھیار بنانا، ذخیرہ کرنا اور استعمال کرنا سب منع ہیں۔ اس پر 192 ملکوں کے دستخط موجود ہیں۔

روسی ویٹو

تاہم کنونشن کا حصہ ہونے کے باوجود ایسے 40 مواقع موجود ہیں جب شام نے مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔ کیمیائی ہتھیاروں پر روک تھام کے ادارے او پی سی ڈبلیو کے پاس اختیار ہے کہ وہ ایسے واقعات کی تفتیش کے لیے ٹیمیں بھیجے۔

اس ادارے اور سلامتی کونسل نے ایک مشترکہ مشن تشکیل دیا تھا جس کا مقصد شام میں کیمیائی اسلحے کے استعمال کے ذمہ داروں کا تعین کرنا تھا۔ تاہم جب اس نے شامی حکومت کی طرف اشارہ کیا تو روس نے اس مشن کی تجدید کو ویٹو کر دیا۔

گذشتہ ہفتے دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کی ذمہ داری جانچنے کے لیے ایک نیا مکینزم تشکیل دیا گیا لیکن اسے بھی روس نے ویٹو کر دیا۔

شام پر حملہ کرنے والے تین ملکوں کا کہنا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے پر سلامتی کونسل سے مینڈیٹ حاصل کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ شام پر حملہ کر کے انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی کو لاگو کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ دلیل 2003 میں عراق پر حملے سے ملتی جلتی ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ صدام حسین کو مجبور کیا جا سکے کہ وہ کیمیائی اور حیاتیاتی اسلحہ ضائع کر دیں۔ اس وقت بھی سلامتی کونسل نے عراق پر حملے کی منظوری نہیں دی تھی۔

اسی طرح گذشتہ سال اپریل میں بھی ٹرمپ انتظامیہ نے شعیرات کے شامی ہوائی اڈے پر 59 میزائل برسائے تھے اور کہا تھا کہ وہ خان شیخون میں کیمیائی حملے کا جواب ہیں۔

کیمیائی ہتھیاروں کا کنونشن دوما جیسے سنگین حملوں کے جواب میں طاقت کے استعمال کی اجازت دیتا ہے، مگر سلامتی کونسل کسی عملی قدم تو کجا، ذمہ داری کا تعین کے مکینزم ہی پر متفق نہیں ہو پائی۔

ان تین ملکوں کا دعویٰ ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی بجائے خود انتہائی اہم بین الاقوامی قانون کی پاسداری کے لیے عمل کر رہے ہیں۔ تاہم اس دعوے کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ روس پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ یہ حملے سراسر غیر قانونی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے بھی کہا ہے کہ سلامتی کونسل کی اولیت کا احترام کیا جائے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

ٹریزا مے نے انسان دوستی کی دلیل دی

سلامتی کونسل کا کام خود اپنے ہاتھ میں لے کر دعویٰ کرنا کہ یہ عوامی مفاد میں کیا گیا ہے، اس سے روس اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کی عکاسی ہوتی ہے۔

شہری آبادی کا تحفظ

دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کسی دوسرے ملک کی شہری آبادی کو فوری خطرے سے بچانے کے لیے بھی طاقت استعمال کی جا سکتی ہے۔

یہ کلیے کو 1990 کی دہائی میں تقویت ملی جب اسے صدام حسین کے ہاتھوں کردوں کو بچانے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے بعد یہ لائبیریا اور سیئرالیون میں بھی استعمال ہوا۔

جب 1999 میں کوسوو میں یہی کلیہ استعمال ہوا تو اس پر کڑی تنقید کی گئی تھی۔

برطانیہ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت بار بار کیمیائی ہتھیار استعمال کرتی رہی ہے اور مستقبل میں اس کے ایسا کرنے کا قوی امکان ہے۔ چونکہ سلامتی کونسل خود عمل نہیں کر سکتی، اس لیے اسے باز رکھنے کے لیے طاقت کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے۔

اس کا مزید کہنا ہے کہ کسی ملک کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رکھنا ذاتی دفاع کے زمرے میں آتا ہے کیوں کہ اگر کیمیائی ہتھیار عام استعمال ہونے لگے تو یہ سب ملکوں کے لیے خطرہ ہیں۔

2003 میں عراق پر حملے سے قبل برطانیہ نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ حملہ ذاتی دفاع کے لیے کیا جا رہا ہے کیوں کہ عراق کے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں جو قبرص میں برطانوی فوجی اڈوں تک پہنچ سکتے ہیں۔

تاہم اس وقت اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا تھا کہ عراق ایسے کسی حملے کی تیاری کر رہا ہے، اس لیے بعد میں یہ دلیل ترک کر دی گئی۔

اسی طرح حالیہ معاملے میں بھی ایسے کوئی شواہد نہیں ہیں کہ شام امریکہ، برطانیہ یا فرانس پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply