12

شام میں ’کیمیائی حملہ‘: جوابی کارروائی کے لیے ’امریکہ کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں‘

امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

امریکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ’تمام آپشنز موجود ہیں‘ جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس واقعے کا ذمہ دار روس اور شام کو ٹھہراتا ہے۔

امریکی نیشنل سکیورٹی کونسل کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہورہا ہے جبکہ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے بھی کابینہ کا اجلاس طلب کیا ہے۔

امدادی کارکنوں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شام میں باغیوں کے زیرانتظام قصبے دوما میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں!

روس تیار رہے، نئے اور سمارٹ میزائل آ رہے ہیں: ٹرمپ

’دوما پر کیمیائی حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘

ٹرمپ کا شام میں ’موثر‘ جوابی کارروائی کا عزم

ڈبلیو ایچ او کا مشرقی دوما تک رسائی کا مطالبہ

تاہم روس کی حمایت یافتہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے کی تردید کرتی ہے۔

سارہ سینڈرز نے بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی صدر کے پاس کئی راستے موجود ہیں اور ابھی تک ’ہم نے مخصوص کارروائیوں کے بارے میں کوئی منصوبہ ترتیب نہیں دیا۔‘

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

شامی افواج دوما کی جانب پیش قدمی کر رہی ہیں

صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا ہے کہ ‘روس تیار رہو میزائل آ رہے ہیں۔ بہترین، نئے اور سمارٹ۔ تمھیں گیس سے لوگوں کو ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔’

دوسری جانب روس نے کہا ہے کہ وہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔

اقوامِ متحدہ میں روسی کے مندوب وسیلی نیبینزیا نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ شام میں کیمیائی حملے کے جواب میں کسی فوجی کارروائی سے باز رہے۔

انھوں نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے کسی قسم کی ’غیر قانونی فوجی کارروائی‘ کی تو وہ اس کا ذمہ دار ہو گا۔

تاہم مغربی رہنماؤں نے کہا ہے کہ وہ دوما پر کیمیائی حملے کا جواب دینے کے لیے مل کر کام کرنے پر متفق ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply