17

شام میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟

شامی جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ
REUTERS

سات سال قبل شام کے صدر بشار الاسد کے خلاف ہونے والے پرامن احتجاج نے کھلی خانہ جنگی کی شکل اختیار کر لی۔ اب تک اس میں ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے ہیں اور اس سے متعدد شہر اور قصبے تباہ ہو گئے ہیں۔

جنگ شروع کیسے ہوئی؟

لڑائی شروع ہونے سے پہلے ہی بہت سے شامیوں کو صدر اسد کی حکومت سے بےروزگاری، بدعنوانی اور سیاسی پابندیوں کی شکایتیں تھیں۔ بشار الاسد اپنے والد حافظ الاسد کی جگہ 2000 میں اقتدار میں آئے تھے۔

مارچ 2011 میں جنوبی شہر دیرا میں پڑوسی عرب ملکوں کے ‘عرب سپرنگ’ سے متاثر ہو کر جمہوریت کے حق میں ہونے والے ایک مظاہرے میں تشدد پھوٹ پڑا۔

یہ بھی پڑھیے

دوما میں کیا ہوا تھا؟

امریکہ، برطانیہ اور روس کی عسکری قوت کا موازنہ

امریکہ اور اتحادیوں کا شام پر حملہ: لائیو کوریج

حکومت نے اسے کچلنے کے لیے مہلک طاقت کا استعمال کیا جس کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہونے لگا جن میں صدر اسد سے استعفے کا مطالبہ کیا جانے لگا۔

مظاہروں اور انھیں دبانے کے لیے طاقت میں شدت آتی گئی۔ حزبِ مخالف کے حامیوں نے بھی ہتھیار اٹھا لیے اور انھیں پہلے اپنے دفاع اور بعد میں سکیورٹی فورسز سے لڑنے کے لیے استعمال کرنے لگے۔

بشار الاسد نے کہا کہ مظاہرے ‘بیرونی پشت پناہی سے ہونے والی دہشت گردی’ ہے، اور عزم کیا کہ وہ انھیں کچل کر رہیں گے۔

تشدد پھیلتا چلا گیا اور ملک خانہ جنگی کا شکار ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

کتنے لوگ ہلاک ہو چکے ہیں؟

برطانیہ میں قائم تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے شام میں موجود ذرائع نے مارچ 2018 تک شام میں 353,900 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، جن میں 106,000 عام شہری ہیں۔

اس تعداد میں وہ 56,900 افراد شامل نہیں ہیں جو یا تو غائب ہیں یا پھر ان کے بارے میں خیال ہے کہ وہ مر چکے ہیں۔

اسی دوران خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے وی ڈی سی نے شام میں اپنے ذرائع کی مدد سے بین الاقوامی انسانی قانون کی متعدد خلاف ورزیوں کی خبر دی ہے۔

اس نے فروری 2018 تک جنگ میں 185,980 افراد کے مارے جانے کی تصدیق کی ہے جن میں 119,200 عام شہری شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

جنگ کیوں لڑی جا رہی ہے؟

بہت جلد جنگ صرف بشار الاسد اور ان کے مخالفین کے درمیان نہیں رہی۔ اس میں متعدد تنظیمیں اور متعدد ملک ملوث ہو گئے جن میں ہر ایک کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے۔

ایک طرف مذہبی جنگ ہو رہی ہے، جس میں سنی اکثریت صدر اسد کی علوی شیعہ اقلیت سے نبردآزما ہے۔

دوسری طرف ملک کے اندر بدامنی سے دولت اسلامیہ اور القاعدہ جیسی شدت پسند تنظیموں کو وہاں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔

شام میں رہنے والے کرد الگ ہیں جو سرکاری فوج سے تو نہیں لڑ رہے لیکن اپنے لیے الگ ملک چاہتے ہیں۔

شامی حکومت کو ایران اور روس کی حمایت حاصل ہے، جب کہ امریکہ، ترکی اور سعودی عرب باغیوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں۔

روس نے شام میں فوجی اڈے قائم کر رکھے ہیں اور اس نے 2015 سے بشار الاسد کی حمایت میں فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں۔

ان حملوں کی وجہ سے پانسہ اسد کی حمایت میں پلٹ گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

روسی فوج کا کہنا ہے کہ وہ صرف ‘دہشت گردوں’ کو نشانہ بناتی ہے، لیکن امدادی کارکنوں کے مطابق وہ حکومت مخالف تنظیموں اور شہریوں پر بھی حملے کرتی ہیں۔

دوسری طرف ایران کے بارے میں خیال ہے کہ اس کے سینکڑوں فوجی شام میں سرگرمِ عمل ہیں اور وہ صدر اسد کی حمایت میں اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔

ایران ہزاروں شیعہ جنگجوؤں کو تربیت دے رہا ہے۔ زیادہ تر جنگجوؤں کا تعلق لبنان کی حزب اللہ سے ہے، لیکن ان میں عراق، افغانستان اور یمن کے شیعہ بھی شامل ہیں۔ یہ سب شامی فوج کے شانہ بشانہ لڑ رہے ہیں۔

امریکہ، فرانس، برطانیہ اور دوسرے مغربی ملکوں نے باغیوں کو مختلف قسم کی مدد فراہم کی ہے۔ ایک بین الاقوامی اتحادی فوج 2014 سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے۔ ان کی وجہ سے سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نامی باغی دھڑے کو بعض علاقوں پر تسلط قائم کرنے میں مدد ملی ہے۔

ترکی ایک عرصے سے باغیوں کی مدد کر رہا ہے لیکن اس کی توجہ کا مرکز کرد ملیشیا ہے۔ اس کا الزام ہے کہ اس کا تعلق ترکی کی ممنوعہ باغی تنظیم پی کے کے سے ہے۔

سعودی عرب کو فکر ہے کہ شام میں ایران اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، اس لیے وہ باغیوں کو اسلحہ اور پیسہ دے رہا ہے۔

اسرائیل کو تشویش ہے کہ حزب اللہ کو ملنے والا اسلحہ اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے، اس لیے وہ بھی شام میں حملے کر رہا ہے۔

شامی عوام کے مصائب

جنگ کی وجہ سے لاکھوں اموات کے علاوہ کم از کم 15 لاکھ شامی مستقل معذروی کا شکار ہوئے ہیں، جب کہ 86 ہزار افراد ایسے ہیں جن کا کوئی عضو ضائع ہوا ہے۔

بےگھر ہونے والوں کی کل تعداد 61 لاکھ ہے اور 56 لاکھ دوسرے ملکوں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

موجودہ زمینی صورتِ حال

حکومت نے ملک کے بڑے شہروں پر دوبارہ قبضہ کر لیا ہے لیکن دیہی علاقوں میں اب بھی بڑے پیمانے پر ایس ڈی ایف کے باغیوں کا کنٹرول ہے۔

باغیوں کے قبضے میں سب سے بڑا صوبہ ادلب ہے جس کی آبادی 26 لاکھ ہے۔

ادلب کو ‘غیر جنگی علاقہ’ قرار دیا گیا ہے، لیکن حکومتی فوج اس پر یہ کہہ کر حملے کرتی رہتی ہے کہ یہاں القاعدہ کے جنگجو چھپے ہیں۔

ایس ڈی ایف اب رقعہ پر بھی قابض ہے جو 2017 تک دولت اسلامیہ کا نام نہاد دارالخلافہ تھا۔

اس کے علاوہ مشرقی غوطہ پر حملہ جاری ہے، جہاں چار لاکھ کے قریب افراد 2013 سے حکومتی محاصرے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

جنگ کیسے ختم ہو گی؟

ماہرین کے مطابق اس تنازعے کا تصفیہ جنگ سے نہیں سیاسی مذاکرات ہی سے ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ نے 2012 کی جنیوا مراسلے کے نفاذ کا مطالبہ کیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ شام میں صلاح و مشورے سے ‘عبوری حکومت’ قائم کی جائے۔

لیکن 2014 کے بعد سے اقوامِ متحدہ کی سربراہی میں جنیوا 2 کہلائے جانے والے مذاکرات کے نو دو بےنتیجہ ثابت ہوئے ہیں۔

صدر اسد حزبِ مخالف سے بات کرنے سے کترا رہے ہیں۔ باغیوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے اسد استعفیٰ دیں۔

اسی دوران مغربی ملکوں کا الزام ہے کہ روس ایک متوازی سیاسی عمل شروع کر کے امن مذاکرات کھٹائی میں ڈال دیے ہیں۔

جنوری 2018 میں روسی نے ‘آستانہ عمل’ کا آغاز کیا، تاہم میں حزبِ اختلاف کی اکثر جماعتوں نے شرکت نہیں کی۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply