24

سی آئی اے کی پہلی خاتون سربراہ جینا ہیسپل کون ہیں؟

Videograb of Gina Haspel at the 2017 William J Donovan Award Dinner

تصویر کے کاپی رائٹ
The OSS Society ®

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی ڈپٹی ڈائریکٹر جینا ہیسپل کو سی آئی اے کا نیا ڈائریکٹر نامزد کیا گیا ہے وہ سی آئی کی پہلی خاتون سربراہ ہیں۔ جینا ہیسپل گذشتہ 30 برس سے پیشہ ور انٹیلجینس آفسر ہیں۔

وہ تھائی لینڈ میں اس متنازع جیل کو چلاتی رہی ہیں جہاں سنہ 2002 میں القاعدہ کے مشتبہ افراد سے واٹر بورڈننگ کے ذریعے تفتیش کی گئی۔

بیرون ملک خفیہ مقامات پر جنھیں ‘بلیک سائٹس’ کہا جاتا ہے، سی آئی اے ‘زیادہ سنگین تفتیش’ کی تکنیک استعمال کرتی تھی لیکن سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایسے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔

صدر ٹرمپ مشتبہ افراد سے زیادہ سختی سے تحقیقات کرنے کے حامی ہیں۔

61 سالہ جینا ہیسپل کا بیرون ممالک کام کرنے کا وسیع تجربہ ہے اور وہ کئی اہم ممالک میں سی آئی اے کی سٹیشن چیف رہ چکی ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں بھی اور اہم پوزیشنز پر کام کر چکی ہیں اور وہ نیشنل کلینڈیسٹائن سروس کی ڈپٹی ڈائریکٹر اور نیشنل کلینڈیسٹائن سروس کے ڈائریکٹر کی چیف آف سٹاف کے عہدے پر کام کر چکی ہیں۔

بلیک سائٹس پر ہونے والی تنیقد کے باوجود گذشتہ برس سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے انھیں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔

اس موقع پر پومپیو نے انھیں ایسی ‘غیر معمولی انٹیلجینس آفسر’ قرار دیا تھا جس میں ‘ہر کام کو کرنے کی پراسرار صلاحیت ہو اور اردگرد کے افراد اُس سے متاثر ہوں۔’

سیکریٹری خارجہ ریکس ٹلرسن کو عہدے سے برطرف کرنے کے بعد مائیک پومپیوکو سیکریٹری خارجہ مقرر کیا ہے اور جینا ہیسپل کو سی آئی کا سربراہ نامزد کیا ہے۔

جینا ہیسپل نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ‘سی آئی اے کی ڈائریکٹر کی نامزدگی اور اعتماد کرنے پر میں صدر ٹرمپ کی شکرگزار ہوں۔اگر میں سربراہ مقرر ہو گئی تو میں صدر ٹرمپ کو بہترین انٹیلیجینس معاونت فراہم کروں گی۔’

یاد رہے کہ ابھی امریکی سینیٹ جینا ہیسپل کی نامزدگی کی توثیق کرے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

سینیٹ کی انٹیلیجنس کمیٹی کے چیئرمین رپبلکن رچرڈ بر نے کہا ہے کہ وہ اُن کی حمایت کریں گے اور اُن کے پاس اپنے کام کو کرنے کا ‘ہنر، تجربہ اور ملک کی سب سے نازک ایجنسی کی قیادت کرنے کے لیے فیصلہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔’

اگرچہ ڈیموکریٹ سینیٹر رون ویڈن نے کہا ہے کہ اپنے ماضی کی وجہ سے وہ اس عہدے کے ناموزوں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ‘اگر ہیسپل امریکہ ایجنسی میں اعلی ترین عہدے پر کام کریں گی تو امریکی حکومت اُن کے ماضی کے پریشان کن حقائق کو زیادہ دیر تک چھپا نہیں پائے گی۔‘

یاد رہے کہ تھائی لینڈ میں بلیک سائٹس کو ہیسپل چلا رہی تھیں اور القاعدہ کے مشتبہ افراد ابو زیبدہ اور عبد الرحیم النشری سے پوچھ گچھ انھیں کی نگرانی میں ہو رہی تھی۔

سی آئی اے کی منظرِ عام پر آنے والی کیبلز کے مطابق ایک ماہ دوران ابو زیبدہ پر83 مرتبہ واٹر بورڈیڈ کیا گیا، اُن کا سر دیوار پر دے مارا گیا اور انھیں سونے بھی نہیں دیا جاتا تھا۔

دستاویز کے مطابق تفتیش کاروں نے یہ جانے بغیر کے ملزم کے پاس کوئی قابلِ ذکر معلومات ہے یا نہیں تفتیش کے لیے سخت طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کیا۔

واٹر بورڈنگ تفتیش کا ایک طریقہِ کار ہے جس میں یہ ملزم کو ایسا احساس ہوتا ہے جیسے وہ پانی میں ڈوب رہا ہو۔

اس تفتیشی سیشن کی ریکارڈنگز کو بعد میں تلف کر دیا گیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ان احکامات کے حوالے سےجینا ہسپل کا نام کیبل میں موجود تھا۔ گو کہ بعد میں جینا ہیسپل کو ان تمام الزامات سے کلیئر کر دیا اور احکامات کے مطابق انھوں نے تمام ریکارڈنگ ضائع کر دیں۔

انسان حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ جینا ہیسپل سی آئی اے کو چلانے کے لیے صحیح انتخاب نہیں ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply