39

سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب آج

پاکستان، ایوانِ بالا

Image caption

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے تاحال اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم یہ نام جلد ہی سامنے آ جائیں گے

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا میں نو منتخب سینیٹرز نے پیر کی صبح حلف اٹھا لیا ہے جبکہ ایوان کے نئے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے پولنگ شام چار بجے ہو گی۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے چیئرمین کے عہدے کےلیے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے نو منتخب سینیٹر صادق سنجرانی کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ ڈپٹی چیئرمین کے لیے پیپلز پارٹی کے سلیم مانڈوی والا امیدوار ہوں گے۔

خیال رہے کہ صادق سنجرانی کا نام وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی طرف سے ان کے مشترکہ امیدوار کے طور پر بھی سامنے آیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

چیئرمین سینیٹ:’نواز شریف رضا ربانی کے حامی مگر زرداری انکاری‘

سینیٹ کی اہمیت اور اہم قانون سازی

حکمران جماعت مسلم لیگ ن کی جانب سے تاحال اپنے امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہیں کیا گیا ہے تاہم یہ نام جلد ہی سامنے آ جائیں گے۔

مسلم لیگ کی جانب سے ابتدائی طور پر کہا گیا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی رضا ربانی کو سینیٹ کی چیئرمین شپ کے لیے نامزد کرتی ہے تو وہ ان کی حمایت کرے گی تاہم آصف زرداری نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اتوار کو جب پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو سے رضا ربانی کے بارے میں استفسار کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ رضا ربانی جماعت کا اثاثہ ہیں اور ان کے لیے ’میرے پاس دوسرا پلان ہے۔‘

سینیٹ کا اجلاس پیر کی صبح شروع ہوا جس کی صدارت سینیٹر یعقوب خان ناصر نے کی جنھیں صدرِ مملکت کی جانب سے یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ اس اجلاس میں حالیہ انتخابات میں منتخب ہونے والے 52 میں سے 51 سینیٹرز نے حلف اٹھایا۔

سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار بیرونِ ملک ہونے کی وجہ سے حلف برادری کےلیے نہیں آئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

پاکستان کے ایوانِ بالا میں کل 104 نشستیں ہیں اور چیئرمین شپ کے لیے کامیاب امیدوار کو 53 ارکان کی حمایت درکار ہو گی

سینیٹرز کی حلف برداری کے بعد یہ اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے اور اب چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے امیدواروں کی جانب سے کاغذات نامزدگی جمع کروائے جائیں گے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے سینیٹ کا اجلاس دوبارہ چار بجے منعقد ہو گا، جس میں خفیہ رائے شماری کے ذریعے انتخاب ہو گا اور پھر نتائج کے اعلان کے بعد چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین حلف لیں گے۔

پاکستان کے ایوانِ بالا میں کل 104 نشستیں ہیں اور چیئرمین شپ کے لیے کامیاب امیدوار کو 53 ارکان کی حمایت درکار ہو گی۔

تین مارچ کو سینیٹ کی 52 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حمایت یافتہ امیدواروں نے 15 نشستیں حاصل کی تھیں اور یوں اب ایوانِ بالا میں وہ 33 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت ہے۔

سینیٹ میں پیپلز پارٹی کے 20 جبکہ تحریکِ انصاف کے 12 سینیٹرز ہیں جبکہ آزاد سینیٹرز کی تعداد 17 ہے۔

اس کے علاوہ ایم کیو ایم پاکستان، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے پانچ، پانچ، جمعیت علمائے اسلام (فضل الرحمان) کے چار، جماعت اسلامی کے دو جبکہ اے این پی، مسلم لیگ فنکشنل اور بی این پی مینگل کا ایک، ایک سینیٹر ایوان میں موجود ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply