31

سینیٹ کی چیئرمین شپ کے امیدوار کون ہیں؟

صادق سنجرانی

Image caption

صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ ان کی پہچان ایک بزنس مین کی ہے

پاکستان کے ایوان بالا سینیٹ میں چیئرمین کے لیے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے مشترکہ امیدوار صادق سنجرانی پر ماضی میں پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں ہی مہربان رہی ہیں۔

صادق سنجرانی کا تعلق چاغی سے ہے اس علاقے کی عالمی وجہ شہرت پاکستان کا ایٹمی دھماکہ اور سینیڈک پراجیکٹ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’سینیٹ چیئرمین کے لیے صادق سنجرانی اور راجہ ظفر الحق مدِمقابل‘

سینیٹ کی چیئرمینی اور بدتمیز بجوکا

صادق سنجرانی کے والد خان محمد آصف سنجرانی ضلع کونسل چاغی کے رکن ہیں جبکہ ایک بھائی رازق سنجرانی سینڈیک میں ڈائریکٹر جبکہ دوسرے بھائی میر محمد سنجرانی بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ ثنا اللہ زہری کے مشیر رہ چکے ہیں۔

صادق سنجرانی کا عوامی سیاست سے کبھی کوئی تعلق نہیں رہا بلکہ ان کی پہچان ایک کاروباری شخصیت کی ہے۔ ان کا کاروبار بلوچستان کے علاوہ دبئی میں بھی پھیلا ہوا ہے۔

وہ 1998 میں میاں نواز شریف کے کوآرڈینیٹر رہے، بعد میں دس سال انھوں نے حکومت سے کنارہ کشی اختیار کی۔

جب 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو انھیں یوسف رضا گیلانی کا کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا اور وہ پانچ سال تک اسی منصب پر فائز رہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے چیئرمین کے لیے انوارالحق کاکڑ اور صادق سنجرانی کے نام پیش کیے تھے، جن میں سے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے صادق سنجرانی کا نام منظور کیا، جس کے بعد ان کی نامزدگی کا اعلان کیا گیا، تاہم مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہداللہ خان کا کہنا ہے کہ صادق کا نام وہاں سے ہی آیا ہے جہاں سے نام آتے ہیں۔

سینیٹر صادق سنجرانی آصف زرداری سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ ان کی ہی ہدایت پر صادق سنجرانی کو یوسف رضا گیلانی کا کوارڈینیٹر مقرر کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

سب سے پرانا مسلم لیگی

راجہ ظفرالحق کو موجودہ وقت میں سب سے پرانا مسلم لیگی کہا جا سکتا ہے۔ وہ 1973 میں پہلی بار مسلم لیگ کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن مقرر ہوئے تھے۔

فوجی صدر ضیا الحق نے انھیں 1981 میں اپنا وزیر اطلاعات مقرر کیا۔ اس ذمہ داری کو انھوں نے اتنے پرجوش انداز میں ادا کیا کہ فوجی سربراہ نے انھیں اپنی ٹیم کا اوپننگ بیٹسمین قرار دیا۔

ضیا الحق کے بعد راجہ ظفر الحق نے اپنی وفاداریاں نواز شریف کے ساتھ وابستہ کر لیں اور دہائیوں پر مشتمل اس رفاقت میں ان کے نواز شریف کے ساتھ تعلقات میں اونچ نیچ آتی رہی۔

پرویز مشرف کے دور میں نواز شریف نے جلاوطنی اختیار کرتے وقت جب جاوید ہاشمی کو مسلم لیگ ن کا صدر بنایا تو راجہ صاحب نواز شریف سے ناراض ہو گئے۔

نواز شریف نے پارٹی کو تقسیم سے بچانے کے پارٹی میں چیئرمین کا ایک رسمی سا عہدہ تخلیق کیا اور راجہ ظفرالحق کو اس پر فائز کر دیا۔

راجہ ظفر الحق آج بھی مسلم لیگ ن کے چیئرمین ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply