سچن تیندولکر کے بیٹے کا خواب 83

سچن تیندولکر کے بیٹے کا خواب

سچن تیندولکر کے بیٹے کا خواب

انڈیا کے شہرہ آفاق بلےباز کے بیٹے کو اپنے کریئر کے لیے کون سا راستہ اختیار کرنا چاہیے؟

اس سوال کا جواب ہے بولر۔

سچن تیندولکر انڈیا کی تاریخ کے سب سے مقبول کھلاڑی ہیں۔ انھوں نے ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں سب سے زیادہ رنز سکور کیے، سب سے زیادہ سینچریاں بنائیں اور مجموعی طور پر 34,357 رنز کا پہاڑ کھڑا کر دیا جس تک مستقل قریب میں کسی اور بلےباز کا پہنچنا مشکل نظر آتا ہے۔

کرکٹ کے میدان میں ان کی ہر حرکت پر تمام ملک کی نظریں جمی ہوتی تھیں اور کہا جاتا تھا کہ ان کے کندھوں پر ایک ارب توقعات کا بوجھ ہے۔

اس لیے تیندولکر کے بیٹے کے اپنے باپ کے نقشِ قدم پر چلنا آسان نہیں تھا۔

تاہم 18 سالہ ارجن تیندولکر کو اس کی زیادہ پروا نہیں ہے۔

اپنے باپ سے زیادہ طویل قامت اور دبلے ارجن کہتے ہیں کہ ‘میں (باپ کے نام کی وجہ سے) زیادہ دباؤ میں نہیں آتا۔ جب میں بولنگ کر رہا ہوتا ہوں تو میرے ذہن میں بس یہی ہوتا ہے کہ میں ہر بار پچ پر گیند زیادہ قوت سے دے ماروں اور جب میں بیٹنگ کر رہا ہوتا ہوں تو بس اپنی شاٹس کھیلتا ہوں، اور فیصلہ کرتا ہوں کہ کن بولروں کے خلاف جارحانہ کھیل پیش کرنا ہے اور کن کے خلاف نہیں۔’

تیندولکر جونیئر نے بی بی سی کو اپنے بولر بننے کے فیصلے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا۔

‘بس میں لمبا اور زیادہ مضبوط ہوتا گیا۔ میں بچپن میں تیز بولنگ کرنا پسند کرتا تھا۔ سو میں نے سوچا کہ میں تیز بولر بن جاؤں کیوں کہ انڈیا میں ویسے بھی ان کی قلت ہے۔’

سچن تیندولکرتصویر کے کاپی رائٹGETTY IMAGES
Image captionسچن تیندولکر کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے عظیم ترین بلےبازوں میں ہوتا ہے

ارجن بائیں ہاتھ سے کھیلتے ہیں، اس لیے ان کی بلےبازی میں لوگوں کو ان کے والد کی کلاسک کور ڈرائیو کی جھلک نہیں ملے گی، بلکہ ان کی بولنگ میں مچل جونسن یا پھر مچل سٹارک کا انداز نظر آئے گا کیوں کہ ارجن نے انھی دو بولروں کو اپنا ماڈل تصور کر رکھا ہے۔

ارجن ان دونوں خوفناک آسٹریلوی بولروں کے ہمراہ کلب کرکٹ کھیلتے رہے ہیں۔

آسٹریلیا کے مقام نیو ساؤتھ ویلز میں کھیلتے ہوئے انھوں نے چار اووروں میں چار وکٹیں لیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے 27 گیندوں پر 48 رنز بنا کر یہ بھی ثابت کر دیا کہ ان میں آل راؤنڈر بننے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔

انھوں نے اپنے والد کے اثر کے بارے میں کہا: ‘انھوں نے میری مدد ضرور کی لیکن مجھے مجبور نہیں کیا۔’

وہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنا نام بنانے کے لیے وہ سخت محنت کر رہے ہیں۔ ‘یہ میرا حتمی خواب ہے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply