41

سعید اجمل کے پاس ’دوسرا‘ راستہ نہیں

تصویر کے کاپی رائٹ

مشکوک بولنگ ایکشن کے معاملے میں سب سے زیادہ شہرت پاکستان کے شعیب اختر اور سری لنکا کے مرلی دھرن کو ملی۔

دونوں بولرز جب بھی مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آئے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو شہ سرخیاں مل گئیں۔

مرلی دھرن کے بعد سعید اجمل مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آنے والے دنیا کے سب سے بڑے بولر ہیں۔

شعیب اختر اور مرلی دھرن کی طرح سعید اجمل بھی اپنے بولنگ ایکشن کا مقدمہ طبی بنیادوں پر لڑتے آئے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ ٹریفک کے ایک حادثے نے ان کے بازو کو غیرمعمولی طور پر موڑ دیا تھا جو ان کی بولنگ میں عیاں ہے۔

تاہم اب یہ فیصلہ آئی سی سی کرے گی کہ ان کے موقف میں کتنی صداقت ہے کیونکہ دو سال پہلے بھی انھوں نے انگلینڈ کے خلاف سیریز کے دوران خود کو بولنگ ایکشن کی بحث میں غیرضروری طور پر ملوث کرلیا تھا کہ آئی سی سی نے انہیں تئیس ڈگری کی چھوٹ دے رکھی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے تمام بولرز کے لیے کلائی کے خم کی ایک حد مقرر کررکھی ہے جو پندرہ ڈگری سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے۔

آئی سی سی نے یہ حد مرلی دھرن اور شعیب اختر کے معاملے کے بعد ہی مقرر کی تھی کیونکہ یہ دونوں بولرز اپنے غیرمعمولی بازوؤں کو بنیاد بناکر بائیو مکینک ماہرین کی مدد سے خود کو کلیئر کراتے رہے تھے۔

مرلی دھرن کے معاملے میں سری لنکن کرکٹ بورڈ بھی سخت موقف کے ساتھ سامنے آتا رہا تھا بلکہ ایک بار تو سری لنکن کپتان ارجنا رانا تنگا نے اس وقت میچ جاری رکھنے سے انکار کردیا تھا جب آسٹریلوی امپائر نے مرلی دھرن کے بولنگ ایکشن کو غیرقانونی قرار دیتے ہوئے نوبال دے دی تھی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اور سعید اجمل کے لیے یہ مشکل گھڑی ہے کیونکہ سب ہی جانتے ہیں کہ سعید اجمل ایک فتح گر بولر کی حیثیت سے پاکستانی بولنگ اٹیک کا اہم حصہ ہیں اور ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا سے سیریز کھیلنی ہے اور اس کے بعد عالمی کپ بھی سر پر ہے سعید اجمل کی معطلی اس کے لیے بہت بڑا دھچکہ ہے۔

سعید اجمل اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے پاس اب کوئی ’دوسرا‘ راستہ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان کے بولنگ ایکشن پر اٹھائے گئے تمام اعتراضات دور کرکے انہیں دوبارہ پاکستانی ٹیم کا حصہ بنادیا جائے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے اگرچہ معطلی کے خلاف اپیل کا فیصلہ بھی کیا ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی حیثیت خالی وار سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہوگی کیونکہ اگر یہ اپیل مسترد ہوگئی تو پھر پاکستان کرکٹ بورڈ کو سعید اجمل کی انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے بہت زیادہ انتظار کرنا ہوگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر یہی ہوگا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سعید اجمل کے بولنگ ایکشن میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی جلد سے جلد کوشش کرے اور پھر انھیں کسی بائیومکینک ماہر کے پاس بھیج کر یہ جاننے کی کوشش کرے کہ بولنگ ایکشن کی یہ خامیاں کس حد تک دور ہوئی ہیں جیسا کہ سری لنکا نے اپنے بولر سینا نائیکے کے ساتھ کیا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کو تمام تر یقین دہانی کے بعد ہی آئی سی سی سے دوبارہ رجوع کرنا ہوگا کہ کہیں بیک فائر نہ ہوجائے۔

تلوار سعید اجمل کے سر پر لٹک رہی ہے کیونکہ اگر وہ دوسال کے دوران دو مرتبہ مشکوک بولنگ ایکشن کی زد میں آگئے تو پھر ایک سالہ پابندی ان کا مقدر ٹھہرے گی۔

سعید اجمل کے معاملے میں اس بار سب سے زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ ان کی تمام گیندیں مشکوک قرار دی گئی ہیں جس پر سب حیران ہیں کیونکہ عام خیال یہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ آف سپنر کی مخصوص گیند’دوسرا‘ ہمیشہ مشکوک رہتی ہے لیکن اس بار بجلی پوری طرح گری ہے۔

اس تمام معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کبھی بھی مشکوک بولنگ ایکشن والے بولرز پر کبھی بھی توجہ نہیں دی۔ اس کا اندازہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین شہریار خان کی اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے سابقہ دور میں مشکوک بولنگ ایکشن والے 23 بولرز فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہے تھے اور اب یہ تعداد بڑھ کر 35 ہوگئی ہے۔

شہریار خان کی یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں امپائرز ایسے بولرز کے بولنگ ایکشن کی رپورٹ بھی نہیں کرتے ۔

ظاہر ہے اس کا نقصان پاکستانی کرکٹ کو ہی ہوا ہے کیونکہ ایسے بولرز کے نہ تو ایکشن درست ہوئے نہ ہی پاکستانی ٹیم کوسعید اجمل کا متبادل مل سکا اور اب جب آئی سی سی نے سعید اجمل کو انٹرنیشنل کرکٹ کھیلنے سے روک دیا ہے پاکستانی ٹیم کے ہاتھ خالی ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply