28

سام سنگ اور ایل جی میں ایک بے سروپا تنازع

تصویر کے کاپی رائٹ
samsung

Image caption

سام سنگ نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے پراسیکیوٹر سے اس معاملے کی تفتیش کرنے کا کہا ہے

جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی کمپنی سام سنگ اور ایل جی میں ایک منفرد تنازع پیدا ہو گیا ہے۔

سام سنگ نے حریف کمپنی ایل جی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کی مصنوعات کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

سام سنگ کا کہنا ہے کہ ایل جی الیکٹرانکس کے ملازمین جرمن میں سٹورز پر رکھی اس کی واشنگ مشینز کو جان بوجھ کی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سام سنگ کے مطابق ان ملازمین میں ایل جی کے ایک سینیئر ایگزیکٹو بھی شامل ہیں۔

سام سنگ نے الزام عائد کیا کہ جرمنی کے شہر برلن میں رواں ماہ الیکٹرانک مصنوعات کے ایک بڑے میلے کے آغاز سے پہلے دانستہ طور پر یہ حرکت کی گئی ہے۔

سام سنگ کے الزام میں ایل جی نے دو واشنگ مشینز کو نقصان پہنچنے کا اعتراف کیا ہے۔

ایل جی کے مطابق نقصان حادثاتی طور پر ہوا کیونکہ واشنگ مشینز کے جوڑ کمزور تھے۔

ایل جی نے مزید کہا کہ اس کے اعلیٰ اہلکار حریف کمپنی کی مصنوعات کا جائزہ لے رہے تھے اور ایک سٹور میں اس دوران چار مشینوں کو نقصان پہنچنے پر اس کا معاوضہ ادا کرنے کی پیشکش بھی کی تھی۔

دوسری جانب جرمن پولیس نے اس واقعے میں ملوت افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔

سام سنگ کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق’یہ ایک بہت ہی بدقسمت واقعہ ہے کہ سام سنگ کو ملک کے قانونی حکام سے اعلیٰ عہدے پر فائز اہلکار سے تفتیش کرنے کی درخواست کرنا پڑی لیکن ہم نے یہ نتیجہ اخد کیا کہ یہ ناگزیر ہے کہ ہم معاملے کے تہہ تک جائیں گے۔‘

سام سنگ نے جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول کے پراسیکیوٹر سے اس معاملے کی تفتیش کرنے کا کہا ہے۔

ایل جی کے ایک ترجمان نے برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سام سنگ نے جن افراد سے تفتیش کرنے کی درخواست کی ہے ان میں گھریلو الیکٹرانک مصنوعات کے شعبے کے سربراہ جو سیونگ جن بھی شامل ہیں۔

ایل جی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ’اگر ہماری کمپنی کا مذکورہ کمپنی کی مصنوعات کی ساکھ متاثر کرنے کے لیے اس کی مصنوعات کو خراب کرنے کا مقصد ہوتا تو اس کے لیے براہ راست اپنے ایگزیکٹوز کو نہ بھیجتے۔‘

ایل جی کے مطابق’ہم امید کرتے ہیں کہ یہ ہماری ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش نہیں ہو گئی۔‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply