27

سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف جعل سازی کے مقدمات

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

حسین حقانی سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کروا کر بیرون ملک گئے تھے کہ اگر عدالت بلائے گی تو وہ چار دن کے نوٹس پر وطن واپس آجائیں گے

وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے سابق حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے دور میں امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کے خلاف لاکھوں ڈالر کے خفیہ فنڈز میں مبینہ طور پر خربرد سے متعلق جعل سازی کا مقدمہ درج کیا ہے۔

یہ مقدمہ ضابطہ فوجداری کی دفعات 109 اور 420 کے تحت درج کیا گیا ہے۔ ان میں سے دفعہ 109 قبل ضمانت نہیں ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزادا ملک کے مطابق حسین حقانی کے خلاف مقدمہ ایف آئی اے کے سربراہ کے حکم پر درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے کے حکام نے وزارت خارجہ کے توسط سے امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے سے اس دور کا ریکارڈ طلب کیا ہے جب حسین حقانی امریکہ میں بطور پاکستانی سفیر اپنے فرائص سرانجام دے رہے تھے۔

اس کے علاوہ وزارت خزانہ سے بھی اس رقم کی تفصیلات مانگی گئی ہیں جو سیکرٹ فنڈز کی مدد میں فراہم کی گئی تھیں اور یہ رقم سفیر کے صوابدیدی اختیار میں تھی۔

نامہ نگار کے مطابق اس سے پہلے میمو گیٹ سکینڈل سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے نے ملزم حسین حقانی کو وطن واپس لانے کے لیے انٹروپول کو خط لکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

پاکستان مخالف پروپیگنڈے کا الزام، حسین حقانی پر مقدمات

’حسین حقانی کا بیان ریاستی اداروں کے موقف کی تصدیق ہے‘

’امریکی سپیشل فورسز ایبٹ آباد ویزے لے کر نہیں آئی تھیں‘

ایف آئی اے کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ انٹروپول نے ایف آئی اے کی طرف سے لکھے گئے خط پر کوئی موثر جواب نہیں دیا۔

حسین حقانی سپریم کورٹ کو یہ یقین دہانی کروا کر بیرون ملک گئے تھے کہ اگر عدالت بلائے گی تو وہ چار دن کے نوٹس پر وطن واپس آجائیں گے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے ایک بینچ نے متعدد بار ایف آئی اے کے حکام سے پوچھا ہے کہ اُنھوں نے حسین حقانی کو امریکہ سے وطن واپس لانے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

واضح رہے کہ القائدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ایبٹ آباد میں ہلاکت کے بعد اس وقت امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکی فوجی حکام کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام کو سویلین حکومت کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی سے روکنے کے لیے اپنا اثرورسوح استمال کرے۔

اس واقعے کے بعد حسین حقانی کو وطن واپس بلا کر ان سے استعفیٰ لیا گیا تھا اور وہ پاکستان میں جتنا عرصہ بھی رہے انھیں سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے دور میں وزیر اعظم ہاؤس میں رکھا گیا تھا۔

اس وقت کے بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں قائم ہونے والے تین رکنی کمیشن نے میمو گیٹ کو ایک حقیقت قرار دیا تھا اور حسین حقانی کو اس کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔

حسین حقانی کی طرف سے یہ بیان بھی سامنے آچکا ہے کہ وہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر پاکستان واپس نہیں جانا چاہتے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply