23

’سابق جرنیلوں کے خلاف کارروائی کا مقصد یکطرفہ احتساب کے حوالے سے دباؤ کو کم کرنا‘

پاکستانی فوج کے جنرل

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

فوج کے جرنیلوں کے احتساب کا مطالبہ سیاست دان اکثر کرتے ہیں: فائل فوٹو

پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے نیب کی جانب سے ایک ایسے وقت فوج کے تین سابق جرنیلوں کے خلاف بدعنوانی کے برسوں پرانے کیسز کو دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے جب اس پر صرف سیاست دانوں کے خلاف کارروائیاں کرنے کا الزام لگایا جا رہا تھا۔

نیب نے جن فوج کے سابق اعلیٰ افسروں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ان میں جنرل (ریٹائرڈ) جاوید اشرف قاضی، لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ سعید ظفر، اور میجر جنرل (ریٹائرڈ) حسن بٹ شامل ہیں۔

ان جرنیلوں پر الزام ہے کہ فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2001 میں ان افسران نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے لاہور میں ریلوے کی ایک سو چالیس کنال سے زائد اراضی لاہور کے ایک نجی کلب کو کم داموں فروخت کر دی تھی۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

حدیبیہ ملز ریفرینس نہ کھولنے کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی درخواست

نواز شریف اور مریم کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کی درخواست

’انصاف کا ترازو ہونا چاہیے تحریکِ انصاف کا نہیں‘

نیب مقدمات: حسن اور حسین کے بعد ڈار بھی مفرور

اس معاہدے میں میینہ بدعنوانی کے الزامات 2007 میں سامنے آنا شروع ہوئے تھے جس کے بعد سے ملک کے مختلف تحقیقاتی اداروں نے اس معاملے کی چھان بین شروع کی تھی جبکہ نومبر 2012 کو قومی احستاب بیورو نے ان تین جرنیلوں کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے طلب کیا۔

یہ معاملہ نیب تک محدود نہیں رہا تھا بلکہ اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بھی اس پر نوٹس لیتے ہوئے ان سابق جرنیلوں کو اپنا جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان ہی دنوں فوج کے زیرانتظام چلنے والے ادارے این ایل سی میں بدعنوانی کے حوالے سے تین جرنیلوں کے بارے میں تحقیقات جاری تھیں اور 2012 میں فوج نے این ایل سی سکینڈل میں ملوث تین ریٹائرڈ اعلیٰ فوجی افسران کو تحقیقات کی غرض سے ملازمت پر بحال کرنے کا اعلان کا کیا تھا اور یہ اعلان ایک ایسے وقت کیا گیا جب مقامی ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں اور تبصرے شائع اور نشر ہو رہے تھے کہ تینوں اعلیٰ فوجی افسران کو بچانے کے لیے انہیں ملازمت پر بحال کیا گیا ہے۔

اُس وقت فوج کے سابق اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی گونج جب میڈیا پر زیادہ سنائی دینے لگی تو جنرل کیانی کو بیان دینا پڑا تھا کہ ماضی میں ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں بہتر یہی ہے کہ تمام فیصلے قانون پر چھوڑ دیں اور ہمیں یہ بنیادی اصول نہیں بھولنا چاہیے کہ ملزم صرف اس صورت میں ہی مجرم قرار پاتا ہے جب مجرم ثابت ہو جائے۔

دوسری جانب لاہور میں ریلوے کی اراضی کی لیز میں بدعنوانی کا دبا ہوا معاملہ دوبارہ خبروں میں اس وقت آیا جب موجودہ حکومت اقتدار میں آئی اور 2016 میں وفاقی وزیر ریلوے نے 2001 میں طے پانے والے لیز کے معاہدے کے نتیجے میں قائم ہونے والے رائل پام کنٹری کلب کو ریلوے کی تحویل میں لینے کا حکم صادر کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

نیب سابق جرنیلوں کے خلاف ریفرنس دائر کرے گا( چیئرمین نیب، فائل فوٹو)

کلب انتظامیہ نے اس حکم کے خلاف احتجاج کیا اور معاملہ لاہور ہائی کورٹ پہنچا جہاں فیصلہ کلب انتظامیہ کے حق میں آیا تاہم اس معاملے سے جڑے کرپشن کے الزامات پر بات نہیں ہوئی تاہم جولائی 2017 میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اکاؤنٹس میں یہ معاملہ دوبارہ زیر بحث آیا تھا جس میں متعلقہ حکام سے رپورٹ بھی طلب کی گئی۔

کیا قائمہ کمیٹی میں اس معاملے پر مزید پیش رفت ہو سکی؟ اس پر مسلم لیگ نون کے رہنما اور کمیٹی کے رکن میاں عبدالمنان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بدھ کو اس معاملے پر کمیٹی کا اجلاس بلایا گیا تھا تاہم ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس منعقد نہیں ہو سکا۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ برس معاملہ زیر بحث آیا تھا تاہم اس کے بعد بدھ کو اس پر اجلاس تھا جو منعقد نہیں ہو سکا۔

’آئندہ اجلاس میں ایف آئی اے، نیب اور ریلوے حکام کو بلایا جائے گا اور کوشش ہو گی کہ اس اجلاس میں کمیٹی اپنا فیصلہ سنا دے۔‘

کمیٹی کے اجلاس سے پہلے ہی اب نیب اس معاملے پر کارروائی کا اعلان کر چکی ہے لیکن نیب کی جانب سے تقریباً 15 برس پرانے کیس کو اچانک دوبارہ کھولنے کی نوبت کیوں آئی؟

اس پر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا کہ نیب کی جانب سے یہ توازن قائم کرنے کے حوالے سے ایک قدم ہے۔

انھوں نے کہا کہ’ احتساب تو سب کا ہونا چاہیے لیکن ہمارے ہاں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ جرنیلوں اور ججوں کا احتساب نہیں ہوتا ہے، اور میرے خیال میں جب متعلقہ ادارے پر دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو توازن قائم کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جاتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

فوجی حکمراں مشرف کے دور میں ریلوے کی اراضی کا متنازع معاہدہ کیا گیا تھا

ماضی میں بھی جرنیلوں کے خلاف کیسز کھولنے اور تحقیقات کی خبریں سامنے آئیں لیکن معاملات کسی منطقی انجام تک نہیں پنچ سکے۔

اس پر سہیل وڑائچ نے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ’ایسے اقدامات پہلے بھی کیے جاتے رہے ہیں لیکن اس میں کوئی ٹھوس یا حقیقی چیز نظر نہیں آتی۔ وقتی طور پر ایسے فیصلے کیے جاتے ہیں لیکن پھر ان پر عمل نہیں کیا جاتا ہے۔ ‘

کیا حکمراں جماعت مسلم لیگ نون کے رہنماؤں کی جانب سے نیب پر یہ الزامات عائد کیے جانے کہ وہ صرف سیاست دانوں کو احتساب کے نام پر ہدف بنا رہا ہے تو اس وجہ سے یہ اقدامات کیے گئے؟

اس پر سہیل وڑائچ نے کہا کہ اسی وجہ سے نیب نے سابق جرنیلوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کر کے اس تاثر میں توازن لانے کی کوشش کی ہے۔

اس کیس میں نامزد جرنیل کون ہیں؟

بدعنوانی کے معاملے میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ جاوید اشرف قاضی 1993 سے 1995 تک خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ سابق فوجی حکمراں جنرل پرویز مشرف کے دور میں وزیر مواصلات و ریلوے اور بعد میں وزیر 2004 سے 2007 تک وزیر ریلوے کے عہدے پر رہے۔

اس کے علاوہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سعید ظفر ریلوے کے سیکریٹری جبکہ میجر جنرل ریٹائرڈ حسن بٹ ریلوے کے چیئرمین تھے۔ ان دونوں جرنیلوں کے بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply