30

راؤ انوار کی گرفتاری، ’خفیہ ادارے رپورٹس تو دے رہے ہیں لیکن گرفتاری میں پیش رفت نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کی جانب سے راؤ انوار کے بارے میں رپورٹس عدالت میں جمع کروائی گئیں۔

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کراچی میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان نقیب اللہ کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے بارے میں خفیہ اداروں کی جانب سے رپورٹس تو دی جا رہی ہیں لیکن ان کی گرفتاری میں پیش رفت نہیں ہو رہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ محض رپورٹس کافی نہیں ہیں بلکہ ملزم کی گرفتاری کے لیے عملی اقدامات بھی ناگزیر ہیں۔

میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے نقیب اللہ قتل کے مقدمے کے بارے میں از خود نوٹس کی بدھ کو سماعت کی۔ اس موقع پر سندھ پولیس کے سربراہ اے ڈی خواجہ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کی جانب سے راؤ انوار کے بارے میں رپورٹس عدالت میں جمع کروائی گئیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق آئی ایس آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملزم راؤ انوار کی لوکیشن آخری مرتبہ پنجاب کے علاقے بھیرہ کے قریب معلوم ہوئی تھی اور اس کے بعد ان کی لوکیشن کے بارے میں معلوم نہیں ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کی تین روز میں گرفتاری کا حکم

نقیب اللہ کیس: راؤ انوار کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

’راؤ انوار طاقتور حلقوں کے بھی نور نظر‘

نقیب اللہ کی ‘پولیس مقابلے میں ہلاکت’ پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزم راؤ انوار کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس کے ساتھ تعاون کیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
FACEBOOK

Image caption

نقیب اللہ کے قتل کا پاکستان کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا ہے

بینچ کے سربراہ نے آئی جی سندھ سے استفسار کیا کہ کیا آئی ایس آئی ملزم راؤ انوار کی گرفتاری میں تعاون کر رہی ہے جس پر اے ڈی خواجہ نے عدالت کو بتایا کہ آئی ایس آئی کی جانب سے اس معاملے میں تعاون کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ نقیب اللہ کے رشتہ داروں نے ملزم راؤ انوار کی عدم گرفتاری پر خفیہ اداروں کی کارکردگی پر سوال اٹھائے ہیں۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے سندھ پولیس کے سربراہ سے استفسار کیا کہ کیا راؤ انوار کو کسی جرائم پیشہ گروہ نے پناہ تو نہیں دی جس پر اے ڈی خواجہ نے کہا کہ وہ اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نقیب اللہ قتل کے مقدمے میں 24 نامزد ملزمان ہیں جن میں سے 10 کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ اس مقدمے کا چالان بھی پیش کر دیا گیا ہے۔

اس از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ انھیں راؤ انوار کا ایک اور خط موصول ہوا ہے تاہم اب یہ معلوم نہیں ہے کہ یہ خط اصلی ہے یا جعلی۔

انھوں نے کہا کہ اس خط میں راؤ انوار کے تمام بینک اکاونٹس کھولنے کی بات کی گئی ہے۔

عدالت نے سندھ پولیس کے سربراہ کو حکم دیا کہ وہ راؤ انوار کے بارے میں ان کیمرہ بریفنگ دیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply