10

’دوما کیمیائی حملہ‘: فیصلے میں اب زیادہ دیر نہیں، ٹرمپ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP/ Getty Images

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شام میں کارروائی کرنے کا فیصلہ ’جلد‘ کر لیا جائے گا۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے بعد وہ اور ان کی ٹیم شام کی صورت حال کو ’بہت سنجیدگی‘ سے دیکھ رہی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جمعرات کو برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں سے اس حوالے سے بات کریں گے۔

مغربی طاقتوں کے بارے میں یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ شام پر کاروائی کی تیاریاں کر رہی ہیں۔

شام کے اتحادی روس نے ایسی کسی بھی کارروائی کی سختی سے مخالفت کی ہے۔

’دوما میں شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے‘

ڈبلیو ایچ او کا مشرقی دوما تک رسائی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

اقوامِ متحدہ میں روسی کے مندوب وسیلی نیبینزیا نے کہا ہے کہ وہ روس اور امریکہ میں جنگ کے امکان کو ’رد نہیں کر سکتے‘ ہیں۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا ’ان کی فوری ترجیح جنگ کے خطرے کو ختم کرنا ہے۔‘

اس سے قبل فرانس کے صدر ایمینوئل میخواں نے جمعرات کو کہا کہ فرانس کے پاس شواہد ہیں کہ شام کے شہر دوما میں گذشتہ ہفتے کیمیائی ہتھیار یا کم از کم کلورین کا استعمال کیا گیا ہے اور یہ ہتھیار بشار الاسد کی حکومت نے استعمال کیے ہیں۔

مقامی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے فرانسیسی صدر نے کہا کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے جواب میں ہونے والی فوجی کارروائی میں ترجیحات پر توجہ دیں گے اور خطے کے استحکام کو برقرار رکھیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

‘فرانس کبھی بھی صورت حال کو مزید کشیدہ ہونے نہیں دے گا یا کچھ ایسا ہونے نہیں دیں گے جس سے خطے کا استحکام خطرے میں پڑے۔ لیکن ہم اس طرح کی حکومتوں کو ان کی من مانی نہیں کرنے دیں گے جن میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی شامل ہے۔’

دوسری جانب جرمنی کی چانسلر انگیلا مرکل کا کہنا ہے کہ جرمنی شامی حکومت کے خلاف فوجی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا تاہم اس کی حمایت کرے گا۔

انھوں نے کہا ‘میں یہ بتانا ضروری سمجھتی ہوں کہ ابھی تک شام پر فوجی کارروائی کا فیصلہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اگر فیصلہ ہو جاتا ہے تو جرمنی اس کا حصہ نہیں ہو گا۔’

انھوں نے مزید کہا کہ جرمنی اس کارروائی کی حمایت کرے گا جو یہ واضح کرے کہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال قابل قبول نہیں ہے۔

‘کبھی نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہو گا’

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ شام کے شہر دوما پر مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں ممکنہ فوجی آپریشن ‘بہت جلد یا کافی عرصے بعد’ کیا جا سکتا ہے۔

انھوں نے ٹویٹ میں لکھا ‘کبھی نہیں کہا کہ شام پر حملہ کب ہو گا۔’

انھوں نے اسی ٹویٹ میں مزید کہا ہے کہ ‘میری انتظامیہ میں امریکہ نے خطے سے دولت اسلامیہ کے خاتمے کے حوالے سے عمدہ کام کیا ہے۔ شکریہ امریکہ کہاں ہے’

امریکہ کا کہنا ہے کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ‘تمام آپشنز موجود ہیں’ جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا کہ فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اس واقعے کا ذمہ دار روس اور شام کو ٹھہراتا ہے۔

روس کی تنبیہہ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

روس نے شام میں جاری کشیدگی میں تمام فریقین سے کہا ہے کہ ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے شام میں کشیدگی میں اضافہ ہو اور ملک میں امن لانے کی کوششوں پر تباہ کن اثرات پڑیں۔

یہ بات کریملن کے ترجمان نے ایسے وقت میں دیے ہیں جب واشنگٹن میں سکیورٹی چیفس صدر ٹرمپ کو شام میں مبینہ کیمیائی ہتھیار کے استعمال کے جواب میں تجاویز دیں گے۔

دریں اثنا شام کے صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں فوجی کارروائی ‘جھوٹ’ پر مبنی ہے۔

‘تمام آپشنز موجود ہیں’

اس سے قبل امریکہ کا کہنا تھا کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں اس کے پاس ‘تمام آپشنز موجود ہیں’جبکہ مغربی رہنما فوجی کارروائی کے بارے میں تاحال غور کر رہے ہیں۔

امدادی کارکنوں اور طبی عملے کا کہنا ہے کہ سنیچر کو شام میں باغیوں کے زیرانتظام قصبے دوما میں درجنوں افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں

روس تیار رہے، نئے اور سمارٹ میزائل آ رہے ہیں: ٹرمپ

ڈبلیو ایچ او کا مشرقی دوما تک رسائی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

تاہم روس کی حمایت یافتہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کیمیائی حملے کی تردید کرتی ہے۔

سارہ سینڈرز نے بدھ کو نیوز بریفنگ کے دوران کہا کہ امریکی صدر کے پاس کئی راستے موجود ہیں اور ابھی تک ‘ہم نے مخصوص کارروائیوں کے بارے میں کوئی منصوبہ ترتیب نہیں دیا۔’

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ روس شام میں امریکی میزائلوں کے حملے کے لیے تیار رہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply