درندوں کی مذمت بند کرو 69

درندوں کی مذمت بند کرو

درندوں کی مذمت بند کرو

سینیٹر پرویز رشید نے واٹس ایپ پر مجھے ایک چھوٹا سا ویڈیو کلپ بھیجا ہے۔ اس ویڈیو کلپ میں ایک دیسی ککڑ(مرغ) کو کتے کے ساتھ لڑتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ککڑ اپنی چونچ اور پنجوں سے کتے کے منہ پر تاک تاک کر حملے کرتا ہے اور ایک جھڑپ کے بعد کتا مزید لڑائی سے اجتناب کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن ککڑ باز نہیں آتا اور دوبارہ پنگے بازی کرتا ہے۔ پھر سے لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔ کتا زور زور سے بھونک کر ککڑ کو ڈراتا ہے لیکن ککڑ رعب میں آنے کی بجائے اپنے حملے جاری رکھتا ہے اور چند ہی لمحوں میں کتا میدان چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے جس کے بعد ککڑ اس کا پیچھا کرتا ہے لیکن کتا اپنی جان بچانے کیلئے کھیتوں میں گھس جاتا ہے۔ کتا ایک درندہ ہے اور ککڑ ایک پرندہ ہے۔ پرندے کے ہاتھوں ایک درندے کی شرمناک شکست کی خوشی میں سینیٹر پرویز رشید نے مجھے بھی شریک کرنا ضروری سمجھا۔ میں پہلے ہی انسانوں کے ہاتھوں درندوں کی کردار کشی پر جلا بھنا بیٹھا تھا اس ویڈیو کو دیکھ کر درندوں کیلئے میری ہمدردی میں مزید اضافہ ہوگیا۔ مجھے انسانوں سے یہ شکوہ ہے کہ وہ جب بھی ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں، ایک دوسرے کا خون بہاتے ہیں تو اس ظلم اور خونریزی کی مذمت کرنے والے اسے درندگی قرار دے کر درندوں کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔ جس طرح تمام انسان ایک جیسے نہیں ہوتے اسی طرح تمام درندے بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ میں نے اپنے پسندیدہ چینل’’اینیمل پلانیٹ‘‘ پر ایسی کئی فلمیں دیکھی ہیں جن میں جنگلی کتے مل کر شیر کا مقابلہ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے اور ایسی شیرنی بھی دیکھی ہے جو اپنی ماں سے بچھڑے ہوئے ہرن کے چھوٹے سے بچے کو ہڑپ کرنے کی بجائے اسے پیار کرتی نظر آتی ہے اور جب ایک دوسرا شیر اس ہرن کے بچے پر حملہ کرتا ہے تو شیرنی اس بچے کا دفاع کرتی ہے۔ایک اور دستاویزی فلم میں ماہرین حیوانیات نے ایسی شیرنی پر تحقیق کی جس نے اپنی ماں سے بچھڑے ہوئے غزال کے بچے کو ناصرف اپنی حفاظت میں لیا بلکہ اسے اس کی ماں سے ملوانے کیلئے بھی جتن کرتی رہی۔ ماہرین کا خیال تھا کہ اس شیرنی کا بچہ کھوگیا ہوگا اور اسی لئے شیرنی نے غزال کے بچھڑے ہوئے بچے کو ماں بن کر پالنا شروع کردیا۔ یہ دستاویزی فلم دیکھ کر مجھے قصور کی سات سالہ زینب یاد آگئی جسے ایک ظالم انسان نے اپنے اندر چھپے شیطان کی گھنائونی خواہشات کا نشانہ بنا کر قتل کر ڈالا اور باقی انسانوں نے اس واقعے کو درندگی قرار دے کر مذمت شروع کردی۔ میں اپنے جیسے انسانوں سے پوچھتا ہوں کہ مجھے بتائو کہ کیا درندے اپنی نسل کے بچوں کے ساتھ وہ کرتے ہیں جو ایک انسان نے معصوم زینب کے ساتھ کیا؟ درندہ درندے کو مار ڈالے اور انسان دوسرے انسان کو مار ڈالے تو افسوس ہوسکتا ہے لیکن ایک انسان نے اپنی بیٹی کی عمر کی زینب کے ساتھ جو کیا وہ کوئی درندہ نہیں کرسکتا اس لئے میں زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کو درندگی نہیں مانتا۔ یہ گھنائونی حرکت صرف انسان کرسکتا ہے۔
یہ ناچیز آپ کو ایسی کئی سچی کہانیاں سناسکتا ہے جن میں درندوں نے انسانوں کے کھوئے ہوئے بچوں کو ناصرف موت سے بچایا بلکہ ان کی پرورش بھی کی۔ جنوبی اسپین کے مارکوس راجر کوئز پنٹو جا کی زندگی پر کتابیں بھی لکھی جاچکی ہیں اور پی ایچ ڈی بھی ہوچکا ہے۔ مارکوس اپنی سوتیلی ماں کے ظلم سے تنگ آکر بہت چھوٹی عمر میں گھر سے بھاگ گیا اور ایک جنگل میں کھوگیا۔ جنگل میں اس کی دوستی بھیڑیے کے بچوں سے ہوگئی۔ پھر ان بچوں کی ماں مارکوس کو اپنے غار میں لے گئی۔ مارکوس بارہ سال تک ان بھیڑیوں کے ساتھ رہا۔ بارہ سال کے بعد کچھ شکاری اسے پکڑ کر واپس انسانوں کی دنیا میں لے آئے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ سانپ اپنے بچے کھاجاتا ہے اور کوّا دوسرے پرندوں کے بچے کھاجاتا ہے لیکن شیر، چیتا، بھیڑیا اور کتا اپنے بچے کھاتا ہے نہ دوسروں کے بچوں کے ساتھ وہ ظلم کرتا ہے جو ایک انسان نے زینب کے ساتھ کیا۔ انسانوں کو چاہئے کہ اپنے اندر چھپے شیطان کی مذمت کریں، درندوں کی مذمت نہ کریں۔ زینب کے واقعہ پر مجھے مقبوضہ کشمیر سے کئی تعزیتی پیغامات موصول ہوئے۔ معروف حریت پسند رہنما آسیہ اندرابی صاحبہ حال ہی میں بھارتی قید سے رہا ہوئی ہیں۔ انہوں نے مجھے پوچھا کہ پاک سرزمین پر ایک سات سال کی بچی کی عصمت دری اور قتل نے ہمیں اندر سے ہلا دیا ہے یہ ظلم کرنے والا کون ہوسکتا ہے؟ میں نے جواب دیا کہ یہ ظلم کسی ذہنی مریض نے کیا ہے اور میری بہن آسیہ اندرابی نے فوراً مجھ سے اتفاق کرلیا۔ سچ تو یہ ہے کہ جو کچھ زینب کے ساتھ ہوا وہ نیا نہیں ہے۔ یہ ظلم صرف قصور میں نہیں بلکہ پاکستان کے ہر علاقے میں ہوتا رہا ہے۔ یہ ظلم دنیا کے کونے کونے میں ہوتا ہے۔ یہ ظلم ہر جگہ انسان کرتے ہیں، درندے نہیں کرتے۔ اس قسم کا قبیح فعل کرنے والا گھٹیا انسان کہیں باہر سے نہیں آتا بلکہ وہ ہمارے خاندان اور حلقہ احباب کے اندر ہی ہوتا ہے۔ آپ اپنے اردگرد نظر دوڑائیں ۔ کچھ تحقیق کریں تو آپ کو بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے بہت سے واقعات کا پتہ چلے گا۔ اس قسم کی قبیح حرکتیں کرنے والے لوگ عام طور پر بڑے مہذب، خوش اخلاق اور نیک نظر آتے ہیں لیکن ان کا ظاہر اور باطن بالکل مختلف ہوتا ہے۔ زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم کے بعد خادم حسین رضوی اور ان جیسےکچھ لوگ بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی ذمہ داری میڈیا پر ڈال رہے ہیں اور فرمارہیں ہیں کہ میڈیا نے فحاشی و عریانی پھیلائی ہے جس کے باعث جنسی تشدد بڑھ رہا ہے۔ میڈیا پر فحاشی و عریانی بالکل نہیں دکھانی چاہئے لیکن میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے ہاں جو گالیاں دی جاتی ہیں ان کے مطالب پر غور کریں۔ یہ گالیاں آج سے نہیں صدیوں سے دی جارہی ہیں۔ ان گالیوں کا تعلق ماں، بہن، بھتیجی اور رشتہ دار خواتین سے ہوتا ہے۔ ہر گالی ایک مکروہ الزام پر مبنی ہوتی ہے ا سکا مطلب ہے کہ یہ مکروہ الزام بہت پرانا ہے۔ ا ٓج کے دور میں یہ الزام میڈیا کے ذریعہ حقیقت بن کر بار بار سامنے آرہا ہے لہٰذا خود فریبی کے شکار کچھ لوگ جنسی تشدد کے واقعات کی ذمہ داری میڈیا پر ڈال کر حقائق کو جھٹلارہے ہیں۔ معصوم زینب گھر سے قرآن پڑھنے نکلی تھی اور ظلم کا شکار ہوگئی۔ اسی قرآن میں قوم لوط کا بھی ذکر ہے۔ قوم لوط جس برے فعل میں مبتلا تھی کیا وہ فعل آپ کو اپنے معاشرے میں نظر نہیں آتا؟ کیا یہ فعل میڈیا نے پھیلایا ہے؟ میڈیا پر تنقید ضرور کریں لیکن تنقید کی آڑ میں ان شیطانی کرداروں کا دفاع نہ کریں جن سے ہمیں اپنے بچوں کو بچانے کی ضرورت ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے بچوں کو اسکولوں میں بتائیں کہ قوم لوط پر اللہ تعالیٰ نے عذاب کیوں نازل کیا اور اس قسم کے شیطانی کرداروں سے بچائو کیسے ممکن ہے؟
یہ پہلو بھی دردناک ہے کہ معصوم زینب کے ساتھ ہونے والے ظلم پر کچھ لوگ اپنی سیاست چمکا رہے ہیں۔ زنیب کے نام پر سیاست کرکے بیچاری زینب کے ساتھ مزید ظلم نہ کیا جائے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ زینب کے قاتل کی گرفتاری اور اسے جلد از جلد سزادینے کا مطالبہ ضرور کریں لیکن ساتھ ہی ساتھ اپنے معاشرے میں بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات پر بھی توجہ دیں۔ پنجاب حکومت نے بچوں کو جنسی تشدد سے بچائو کیلئے تعلیم دینے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی یہ تعلیم دی جائے۔ بلوچستان میں نئے وزیر اعلیٰ آچکے ہیں ان کے پاس صرف چند ماہ باقی ہیں۔ انہیں اسمبلی توڑنے کا مشورہ نہیں سننا چاہئے بلکہ کم سے کم وقت میں اپنے آپ کو عوام کے ساتھ جوڑنا چاہئے وہ بہت سے کام کرسکتے ہیں۔ کم از کم ا سکولوں کے نصاب میں جنسی تشدد سے بچائو کی تعلیم تو شامل کر ہی سکتے ہیں۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ آج کے بعد انسانوں کے ایک دوسرے پر ظلم کو درندگی قرار نہ دیں کیونکہ درندے اپنے بچوں کے ساتھ وہ نہیں کرتے جو زینب کے ساتھ ہوا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply