16

خیبر پختونخوا: ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

آپریشن ضرب عضب کے بعد دہشت گرد کاروائیوں میں کمی آئی ہے لیکن ٹارگٹ کلنگ میں اضافہ دیکھا گیا ہے

خیبر پختونخوا میں ہدف بنا کر قتل کرنے یا ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ان دنوں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے ۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مئی سن دو ہزار تیرہ سے اس سال اگست تک پندرہ ماہ میں دہشت گردی کے واقعات میں ایک سو ساٹھ افراد کو ہلاک اور ایک سو کو زخمی کیا گیا ہے ۔

ہلاک ہونے والے افراد میں اہل تشیع کے علاوہ سکیورٹی اہلکار اور سرکاری عہدیدار شامل ہیں۔ ان دنوں بیشتر واقعات پشاور کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان ، بنوں، کرک ، سوات اور صوابی میں پیش آئے ہیں جبکہ قبائلی علاقوں میں خاص طور پر خیبر ایجنسی سے بھی ہدف بنا کر ہلاک کرنے کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔

گزشتہ روز اہل تشیع سے تعلق رکھنے والے محکمہ جیل خانہ جات کے ملازم حیدر علی کو پشاور شہر کے گنجان آْباد علاقے میں فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا۔

دو روز پہلے ڈیرہ اسماعیل خان میں پولیس انسپکٹر کے دو بھائیوں کو فائرنگ کرکے ہلاک اور ایک کو زخمی کر دیا گیا تھا ۔ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلعی پولیس افسر صادق حسین کہتے ہیں کہ شدت پسندوں کے لیے ٹارگٹ کلنگ آسان طریقہ ہے ۔ انھوں نے کہا کہ شدت پسند اب اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ خود کش حملے کر سکیں اور اس کی وجہ فوجی آپریشن ہیں۔

اس کے علاوہ ان کی فنڈنگ روکی گئی جس کے بعد شدت پسندوں نے دیگر ذرائع سے رقم کے حصول کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں۔ صوبے کے جنوبی اضلاع میں کچھ عرصے سے تشدد کے ایسے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جن میں ایک یا دو افراد کو ہدف بنا کر ہلاک کیا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے بڑے دھماکے کیے جاتے تھے جن میں ہلاکتیں کہیں زیادہ ہوتی تھیں۔ صادق حسین کا کہنا ہے ان واقعات میں اضافے کی ایک وجہ قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ سن دو ہزار سات سے سن دو ہزار گیارہ تک بڑے واقعات پیش آتے تھے جب ایک دن میں پندرہ جنازے بھی اٹھائے گئے اب حالات مختلف ہیں ۔

گزشتہ روز پشاور کی سرحد کے قریب خیبر ایجنسی کے علاقے جمرود میں محکمہ صحت کے ایک اہلکار کو اس کے بیٹے سمیت فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں کرک کے ایک پرائمری سکول میں فائرنگ کرکے ایک ٹیچر کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔ اسی طرح پشاور میں اہل تشیع کے علاوہ بڑی تعداد میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملے ہو چکے ہیں۔

پشاور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس مصطفیٰ تنویر کا کہنا ہے کہ پولیس ان واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کر رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ہر ماہ پولیس ایک پلان بناتی ہے جس میں اہم مسائل پر توجہ دی جاتی ہے ۔

مصطفٰی تنویر کے مطابق ایسے گروہوں کی نشاندہی ہو ئی ہے جو اس طرح کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایسے گروپ پکڑے گئے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک ٹارگٹ کلر کو گرفتار کیا گیا تھا جو کہ انیس افراد کے قتل میں ملوث تھا۔

سوات میں اس سال اب تک حکومت کے حمایتی امن لشکر کے بیس رضا کار ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ قبائلی علاقے جیسے باجوڑ ایجنسی اور مہمند ایجنسی سے بھی آئے روز تشدد کے واقعات کی اطلاعات موصول ہوتی رہتی ہیں۔ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر تحقیق کرنے والی غیر سرکاری تنظیم کے سربراہ فضل سعید کا کہنا ہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کی تعداد سرکاری اعداو شمار سے کہیں زیادہ ہے ۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی سطح پر شائع ہونے والے اخبارات کے مطابق صرف ستمبر میں ستر افراد کو ہلاک کیا گیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ ان میں وہ بھی شامل ہیں جن کی لاشیں مختلف مقامات سے ملی ہیں اور وہ بھی شامل ہیں جنھیں اغوا یا تاوان کے لیے اغوا کرکے ہلاک کر دیا جاتا ہے ۔

ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافے سے لوگوں میں تشویش پائی جاتی ہے لیکن حکومت کی جانب سے ایسے کوئی ٹھوس اقدامات نظر نہیں آ رہے جن سے ان واقعات میں کمی لائی جا سکے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply