28

خود کو کسی سے بھی کمتر نہ سجھو: حفیظ

تصویر کے کاپی رائٹ
BBC World Service

Image caption

بھارت میں کھیلنے کا اپنا مزا ہے یہاں کے شائقین کرکٹ کے دیوانے ہیں: محمد حفیظ

بھارت میں جاری ٹی ٹوئنٹی چیمپیئنز لیگ میں شامل لاہور لائنز کی ٹیم کے کپتان محمد حفیظ نے اپنے کھلاڑیوں سے کہا ہے کہ چیمپیئنز لیگ میں اب ان کا مقابلہ ان ٹیموں سے ہے جن کا تجربہ ان سے زیادہ ہے لیکن وہ خود کو کسی سے بھی کمتر نہ سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق کھیلیں۔

لاہور لائنز نے چیمپیئنز لیگ کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ممبئی انڈینز اور سدرن ایکسپریس کو شکست دے کر فائنل راؤنڈ میں جگہ بنائی ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی کوئی ٹیم چیمپیئنز لیگ کے فائنل راؤنڈ میں کھیلے گی۔اس مرحلے میں اس کا مقابلہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز، چنئی سپرکنگز، ڈولفنز اور پرتھ سکارچرز سے ہے۔

وہ اپنا پہلا میچ 21 ستمبر کو کولکتہ نائٹ رائیڈرز کے خلاف کھیلے گی۔

محمد حفیظ نے حیدرآباد دکن سے بی بی سی اردو سروس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ لاہور لائنز کی کوشش ہوگی کہ کوالیفائنگ راؤنڈ میں اس نے جو اچھی کرکٹ کھیلی ہے اسے آنے والے میچوں میں بھی برقرار رکھا جائے۔

محمد حفیظ کے مطابق کھلاڑی پرجوش ہیں اور اپنی کرکٹ سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ نام سے تمام ٹیمیں بڑی لگتی ہیں اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ کولکتہ نائٹ رائیڈرز اور چنئی سپر کنگز کا تجربہ لاہور لائنز سے کہیں زیادہ ہے لیکن ٹی ٹوئنٹی میں جس دن آپ اچھا کھیلیں تو آپ کا ٹیلنٹ کسی بھی ٹیم کو شکست دے سکتا ہے۔

’لاہور لائنز میں ٹیلنٹ موجود ہے چند پروفیشنل چیزوں پر مزید توجہ دے رہے ہیں کیونکہ ٹیم کے آٹھ نو کھلاڑی ایسے ہیں جو پہلی بار اس طرح کا کوئی بڑا ایونٹ کھیل رہے ہیں۔وہ جتنا زیادہ کھیلیں گے اتنا ہی زیادہ سیکھیں گے۔‘

محمد حفیظ نے کہا کہ کوالیفائنگ میچوں میں وہاب ریاض اور اعزاز چیمہ نے اچھی بولنگ کی ہے جبکہ عدنان رسول، آصف رضا اور عمران علی کا رول بھی اہم ہے۔ بیٹنگ میں عمراکمل نے پہلے میچ میں اچھی بیٹنگ کی جبکہ سعد نسیم کا ٹیلنٹ ڈومیسٹک کرکٹ میں دیکھ چکے ہیں وہ ایک مکمل کرکٹر ہیں لیکن بدقسمتی سے انگلی زخمی ہونے کے سبب وہ بولنگ نہیں کر پائے ہیں۔

محمد حفیظ کہتے ہیں کہ بھارت میں کھیلنے کا اپنا مزا ہے یہاں کے شائقین کرکٹ کے دیوانے ہیں اور جب بھی پاکستانی کرکٹرز بھارت آ کر کھیلتے ہیں تو انھیں شائقین کی محبت ملتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس ٹورنامنٹ میں چونکہ ان کا پہلا میچ ایک بڑی ٹیم ممبئی انڈینز سے تھا لہٰذا پہلے میچ میں شائقین کی ہمدردیاں ممبئی کی ٹیم کے ساتھ تھیں لیکن اسے ہرانے کے بعد شائقین نے لاہور لائنز کی طرف توجہ دینی شروع کر دی۔

’مجھے امید ہے کہ لاہور لائنز آئندہ میچز میں جتنا اچھا کھیلے گی کراؤڈ کی اتنی ہی زیادہ سپورٹ ان کی ٹیم کو ملے گی لیکن وہ یہ بات ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ لاہور لائنز بہت ہی محدود وسائل کے ساتھ بھارت آئی ہے اور اس نے ابھی تک جو ٹیلنٹ دکھایا ہے وہ کسی بھی بڑی ٹیم سے کم نہیں ہے۔‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply