13

جنوبی بحیرۂ چین:’امریکی بحری جہازوں کی موجودگی چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی‘

امریکی جہاز

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

چین پہلے بھی متنازع سمندری علاقے میں امریکی جہازوں کی موجودگی کو فوجی اشتعال انگیزی قرار دے چکا ہے

چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے متنازع جزائر کے قریب دو جنگی بحری جہاز بھیج کر چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔

چین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں اس کے بحری اور فضائی جہازوں نے امریکی جہازوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے انھیں خبردار کیا۔

امریکی بحری جہازوں نے جنوبی بحیرہ چین کے چار مقامات پر نقل و حرکت کی ہے جس میں ووڈی جزیرہ بھی شامل ہے جہاں پر چین نے میزائل نصب کر رکھے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

متنازع جزیرے پر چینی بمبار طیاروں کی لینڈنگ

چین: دفاعی اخراجات کے لیے دس کھرب یوان کا بجٹ

’امریکہ جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے میں فریق نہیں‘

ٹرکوں پر نصب ان میزائلوں کے بارے میں انکشاف مصنوعی سیارے سے حاصل کردہ تصاویر سے ہوا تھا۔ ان معلومات کے بعد امریکہ نے چین کو ہوائی کے قریب بحری جنگی مشقوں میں شرکت کا دعوت نامہ واپس لے لیا تھا۔

بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اس علاقے میں نقل و حرکت کی آزادی کے حوالے سے معمول کی فوجی مشقیں کرتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ان کو جاری رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ تقریباً دو ہفتے پہلے ہی چینی فضائیہ نے کہا تھا کہ اس کے بمبار طیاروں کو پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں بھجوایا ہے جس کی وجہ امریکہ کا اس خطے کے حوالے سے نیا انتباہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعوی ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں

دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بمبار H-6K ان طیاروں میں شامل تھے جنھوں نے جزیروں پر مشقیں کیں تاکہ چین کی تمام علاقوں تک رسائی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔

یہ سمندر اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور جس پر چھ ممالک اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعویٰ ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’جنوبی بحیرۂ چین میں روکا گیا تو جنگ چھڑ سکتی ہے‘

امریکی بحری بیڑے کی موجودگی اشتعال انگیزی ہے: چین

چین پر الزام ہے کہ وہ اس کے وسیع حصے پر اپنے حق کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے وہاں فوجی نقل و حرکت کرتا ہے۔

چین اس سے پہلے بھی متنازع جزائر کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے واقعات پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے سنگین سیاسی اور فوجی اشتعال انگیزی قرار دے چکا ہے۔

چین نے جنوبی بحیرہ چین کے علاقوں پر اپنے حق کو ملک کی’ ناقابل اعتراض خودمختاری’ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ چین کی خطے کے متنازع علاقوں پر عملداری کو روکے گا۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply