توہینِ عدالت کیس: نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید، پانچ سال کے لیے نااہل 97

توہینِ عدالت کیس: نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید، پانچ سال کے لیے نااہل

توہینِ عدالت کیس: نہال ہاشمی کو ایک ماہ قید، پانچ سال کے لیے نااہل

پاکستان کی عدالتِ عظمیٰ نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہینِ عدالت کے جرم کا مرتکب پاتے ہوئے ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

انھیں پانچ برس کے لیے کسی بھی عوامی عہدہ سنبھالنے کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی میڈیا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو کا ازخود نوٹس لیا تھا جس میں انھیں پاناما لیکس کیس میں تفتیش کرنے والی جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کو دھمکیاں دیتے سنا جا سکتا تھا

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا ہے کہ نہال ہاشمی کو اسلام آباد میں گرفتار کر لیا گیا ہے اور اب انھیں اڈیالہ جیل منتقل کیا جا رہا ہے۔

جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں انھیں مزید 15 روز قید کاٹنا پڑے گی۔

نہال ہاشمی وہ دوسرے رکنِ پارلیمان ہیں جنھیں توہینِ عدالت کے کیس میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس سے قبل سنہ 2012 میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو بھی توہینِ عدالت کا مرتکب پایا گیا تھا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے دو ججوں نے اتفاقِ رائے سے یہ فیصلہ جمعرات کو سنایا جبکہ بینچ میں شامل ایک جج نے کوئی رائے نہیں دی۔

نہال ہاشمی اس فیصلے کے خلاف لارجر بینچ کے سامنے اپیل کا حق رکھتے ہیں۔ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کی صورت میں وہ جج صاحبان اس بینچ کا حصہ نہیں ہوں گے جنھوں نے مجرم نہال ہاشمی کو یہ سزا سنائی ہے۔

یاد رہے کہ اس کیس کے دوران نہال ہاشمی نے عدالت سے غیر مشروط معافی بھی مانگی تھی تاہم عدالت نے ان کی یہ درخواست مسترد کر دی تھی۔

نہال ہاشمی کے خلاف فیصلہ آنے کے بعد اب وہ پانچ سال کے لیے نااہل قرار پاگئے ہیں
Image captionنہال ہاشمی اس فیصلے کے خلاف لارجر پینچ کے سامنے اپیل کا حق رکھتے ہیں۔

نہال ہاشمی کون ہیں؟

آصف فاروقی، بی بی سی اردو

مسلم لیگ ن میں سینیٹر نہال ہاشمی کی پہچان متوسط طبقے سے تعلق اور نواز شریف کے ساتھ بے لوث وابستگی ہے۔

وہ اس وقت مسلم لیگ ن اور نواز شریف کے ساتھ کھڑے تھے جب سندھ اور بالخصوص کراچی میں ان کی جماعت کے نام لیوا بہت کم تھے اور جو تھے وہ یا تو جیل میں تھے یا جیل جانے سے بچنے کے لیے چھپتے پھرتے تھے۔

ایسے وقت میں نہال ہاشمی، جو کہ کراچی میں ذیلی عدالتوں میں وکالت کرتے تھے، طیارہ ہائی جیکنگ کیس میں نواز شریف کی عدالت حاضری کے وقت ان کے ساتھ کھڑے ہوتے۔ نہال ہاشمی نواز شریف کے قریب تو بہت تھے لیکن کبھی بھی ان کے سنجیدہ مشاورتی حلقے میں شامل نہیں رہے۔ وجہ اس کی، ان کے مزاج کا سیلانی پن بتایا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ پارٹی میٹنگز میں بھی بعض اوقات ایسی بات کر جاتے جس پر ان کے علاوہ شرکا کو بھی خفت کا سامنا کرنا پڑتا۔

یہی جذباتی پن بلآخر ان کے جیل جانے کا باعث بنا ہے۔ گذشتہ سال جب مئی میں انھوں نے پاناما کیس کے دوران اس کیس کی تفتیش کرنے والے جے آئی ٹی اور عدلیہ کے ارکان کے بارے میں توہین اور دھمکی آمیز تقریر کی، تو مسلم لیگ ن نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سینیٹ سے استعفیٰ طلب کیا۔ انہوں نے استعفیٰ دینے سے انکار کیا اور نواز شریف سے ملاقات کا وقت مانگا جو انھیں نہیں ملا۔

کہا جاتا ہے کہ اس کٹھن وقت میں انھیں مسلم لیگ کی صرف ایک خاتون شخصیت کی حمایت حاصل رہ گئی تھی جو اس وقت پارٹی میں دوسری اہم ترین فرد سمجھی جاتی ہیں۔


واضح رہے کہ نہال ہاشمی کا تعلق حکمران جماعت مسلم لیگ ن سے تھا۔ حکمران جماعت نے سینیٹ میں قائدِ ایوان راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی تھی جس کی رپورٹ میں نہال ہاشمی کو قصور وار قرار دیا گیا تھا۔

اس کے علاوہ مسلم لیگ ن نے اپنی انضباطی کمیٹی کی سفارش پر متنازع تقریر کے بعد نہال ہاشمی کو جماعت سے نکال دیا تھا۔

اگرچہ نہال ہاشمی کا تعلق کراچی سے تھا تاہم انھیں سینیٹ میں 2015 میں سیٹ پنجاب سے ملی تھی۔

مذکورہ ویڈیو میں نہال ہاشمی کو یہ کہتے سنا جا سکتا ہے کہ حساب لینے والے آج حاضر سروس ہیں، کل ریٹائر ہو جائیں گے اور ہم ان کا یوم حساب بنا دیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’اور سن لو جو حساب ہم سے لے رہے ہو، وہ تو نواز شریف کا بیٹا ہے، ہم نواز شریف کے کارکن ہیں، حساب لینے والوں! ہم تمھارا یوم حساب بنا دیں گے۔‘

ویڈیو سامنے آنے کے بعد مسلم لیگ ن کی جانب سے اسے نہال ہاشمی کی ذاتی رائے قرار دیا گیا تھا اور نواز شریف نے نہال ہاشمی سے سینیٹرشپ سے مستعفی ہونے کو کہا تھا اور ان کی پارٹی رکنیت بھی معطل کر دی تھی۔

ابتدائی طور پر نہال ہاشمی نے اپنا استعفیٰ سینیٹ میں جمع کروا دیا تھا تاہم پھر 31 مئی کو انھوں نے چیئرمین رضا ربانی سے استعفے کی واپسی کی درخواست کی جو منظور کر لی گئی۔

نہال ہاشمی کا موقف تھا کہ یہ استعفیٰ انھوں نے غیر معمولی حالات میں دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمسن کا کہنا ہے کہ انھیں اس فیصلے کی مصدقہ کاپی موصول نہیں ہوئی اور ایسا ہوتے وہ نہال ہاشمی کی رکینیت معطل کر دیں گے۔ واضح رہے کہ سینیٹ کے انتخابات آئندہ ماہ ہونے ہیں اور بہت امکان ہے کہ اس سیٹ پر الیکشنبھی آئندہ ماہ ہی کروایا جائِے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply