27

بوٹوکس سے جذبات کے اظہار پر اثر

تصویر کے کاپی رائٹ
SPL

Image caption

بوٹوکس سے انسانی پیشانی اور چہرے کے پٹھے عارضی طور پر مفلوج ہونے سے جھریاں پڑنے کا عمل کم ہوجاتا ہے

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بوٹوکس کے استعمال سے نوجوان افراد کی جذباتی نشوونما رک سکتی ہے۔

جرنل آف ایستھیٹک نرسنگ میں تحریر کردہ مضمون میں ماہرین کا کہنا ہے کہ 25 سال سے کم عمر کے افراد میں جھریاں ختم کرنے کے لیے استعمال ہونے والے بوٹوکس انجکشن لگانے کا رواج بڑھ رہا ہے۔

تاہم تحقیق کاروں کے مطابق یہ ’منجمد چہرے‘ نوجوان افراد کو جذبات کے مکمل اظہار سے روک سکتے ہیں۔

برطانیہ میں پلاسٹک سرجنوں کی تنظیم کا یہ بھی کہنا ہے کہ نوجوانوں کو ’ کاسمیٹک‘ وجوہات کی بنا پر بوٹوکس کے انجکشن لگانا ’اخلاقی طور پر غلط‘ ہے۔

بوٹوکس اور اس قسم کے دیگر مادے انسانی پیشانی اور چہرے کے پٹھوں کو عارضی طور پر مفلوج کر کے جھریاں پڑنے کا عمل کم کر دیتے ہیں۔

اس تحقیق کی مصنفہ ہیلن کولیئر کا کہنا ہے کہ ٹی وی پر آنے والے ریئیلیٹی شوز اور سیلیبریٹی کلچر نوجوان افراد کو اس طرف مائل کرنے کی بڑی وجہ ہیں۔

انھوں نے ایک اہم نفسیاتی نظریے کا حوالہ دیا جس کے مطابق نوجوان لوگوں سے اپنا تعلق ان کے چہرے کے تاثرات کی نقل اتار کر قائم کرتے ہیں۔

ہیلن کولیئر نے کہا کہ ’بطور انسان احساسات کو ظاہر کرنے کا بہت حد تک دارومدار چہرے کے تاثرات پر ہوتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’دوسروں کے جذبات سمجھنا اور ہمدردی کا اظہار ہمیں زندہ رہنے اور پراعتماد اور دوسروں سے بات چیت کرنے والا انسان بننے میں مدد دیتا ہے۔‘

تاہم نرس کولیئر نے خبردار کیا کہ نوجوان افراد کی ’بےتاثر چہروں والی بڑھتی ہوئی نسل‘ ممکنہ طور پر تاثرات کے صحیح اظہار سے قاصر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ یہ تاثرات ختم کر دیں گے تو ان کی جذباتی اور سماجی نشوونما رک سکتی ہے۔‘

کارڈف کے ماہرِ نفسیات ڈاکٹر مائیکل لوئیس کا کہنا ہے کہ ’ہم جن جذبات کا تاثرات سے اظہار کرتے ہیں انھیں جذبات کو ہم محسوس کرتے ہیں۔مثلاً ہم مسکراتے ہیں اگر خوش ہوتے ہیں لیکن مسکرانا بھی ہمیں خوش کرتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ بوٹوکس کے استعمال سے لوگ مخصوص تاثرات کے اظہار سے قاصر رہ جاتے ہیں جس سے ان کی شخصیت کے جذباتی پہلو پر اثر پڑ سکتا ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply