31

بلوچستان میں ریفرینڈم نہیں چاہتے: حیر بیار مری

Image caption

۔۔ سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو نہ تو مارا گیا، نہ غائب کیاگیا: حیربیار

برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کےلیے سکاٹ لینڈ میں پایہ تکمیل تک پہنچنے والے ریفرینڈم پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز تھیں۔ ایک طرف برطانیہ کا مستقبل زیر بحث رہا تو دوسری طرف سکاٹش ریفرینڈم کا دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحریکوں سے موازنہ کیاگیا۔

ریفرینڈم میں تو سکاٹش عوام نے آزادی کے خلاف ووٹ دے کر برطانیہ میں رہنے کو ترجیح دی لیکن تجزیہ کاروں کے خیال میں نتائج سے ہٹ کر سکاٹش ریفرینڈم یورپ سمیت دنیا بھر میں جاری آزادی کی تحریکوں پر اثر انداز ہوگا۔

بلوچستان میں جاری علیحدگی پسند تحریک کا سکاٹ لینڈ سے موازنہ صحیح ہے یا غلط یہ بحث تو اپنی جگہ لیکن کچھ کے خیال میں بلوچ علیحدگی پسند جب تک انتخابات میں آزادی کےلیے ریفرینڈم کا نعرہ لگا کر منتخب نہیں ہوتے تب تک سکاٹ لینڈ کی آزادی پسند حکمران جماعت سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی سے ان کا موازنہ درست نہیں ہوگا۔

سکاٹش نیشنلسٹ پارٹی نے سکاٹ لینڈ کے انتخابات میں ’آزاد سکاٹ لینڈ‘ کا نعرہ لگا کر کامیابی حاصل کی تھی اور پھر اپنے انتخابی منشور کے تحت ریفرینڈم کروانے کا وعدہ پورا کیا۔

لیکن بلوچستان کے علیحدگی پسند حلقےنہ تو انتخابات کو مانتے ہیں اور نہ ہی اس میں حصہ لیتے ہیں۔ یہی سوالات جب میں نے بلوچ علیحدگی پسند رہنما اور نواب خیر بخش مری کے صاحبزادے حیر بیار مری کے سامنے رکھے تو ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان اور سکاٹ لینڈ کا موازنہ ہی غلط ہے۔ ’ہم نے نہ تو کبھی ماضی میں بلوچستان میں ریفرنڈم کا مطالبہ کیا تھا اور نہ ہی مستقبل میں ہمارا کوئی ایسا ارادہ ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سکاٹ لینڈ میں آزادی کا مطالبہ کرنے والوں کو نہ تو مارا گیا، نہ غائب کیا گیا اور نہ ٹارچر کیا گیا لیکن بلوچستان میں تو جو آزادی کا صرف نام لیتے ہیں ان سے تو اس دنیا میں رہنے کا حق بھی چین لیا جاتا ہے۔‘

حیر بیار مری کا کہنا تھا کہ سکاٹ لینڈ اور بلوچستان میں بنیادی فرق یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام صدیوں سے اپنی مرضی سے برطانوی یونین کا حصّہ ہیں اور اب اگر آزادی مانگ رہے تھے تو انہیں ان کا جمہوری حق دیا گیا لیکن بلوچستان کے عوام تو1947 سے پاکستان کے ساتھ نہ تو رہنے کے حق میں تھے اور نہ اب ہیں، تو ہم ریفرینڈم کا مطالبہ کیوں کریں؟

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان پر قبضہ ختم کیا جائے اور پھر اس کے بعد بلوچ عوام خود اپنے مستقبل کا فیصلہ جمہوری انداز میں کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔‘

تو کیا بلوچ عوام سرداروں اور نوابوں کے ماتحت زندگی گزارنا پسند کریں گے؟ اس سوال کے جواب میں حیربیار مری کا کہنا تھاکہ بلوچ عوام کا ماضی میں استحصال ضرور ہوا ہے لیکن ان کے پیش کیےگئے بلوچستان لبریشن چارٹر کے تحت سردار اگر بلوچستان نیشنل اسمبلی کا ممبر بننا چاہے گا تو اسے سرداری سے مستعفیٰ ہونا پڑے گا، آزاد بلوچستان میں سردار ہو یا کہ عام بلوچ وہ ایک ہی ووٹ استعمال کر کے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں گے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply