40

برطانیہ میں معیاری سپرم کی شدید کمی

تصویر کے کاپی رائٹ

Image caption

برطانیہ کو سپرم فراہم کرنے والوں میں ڈنمارک اور امریکہ کے سپرم بینک اہم ہیں

برطانوی فرٹیلیٹی سوسائٹی (بی ایف ایس) نے متنبہ کیا ہے کہ برطانیہ کو مردوں کے تخم تولید یا سپرم کی زبردست کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے فرٹیلیٹی کلینک خراب کوالٹی کے سپرم لینے کی جانب مائل ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ کے بعض کلینک سپرم کی مانگ پوری کرنے کے لیے بیرون ممالک سے درآمد سپرم پر بھروسہ کرتے ہیں۔

بی ایف ایس کے سربراہ ڈاکٹر ایلن پیسی نے کہا ہے کہ وہ اس بات سے ’پریشان‘ ہیں کہ بعض کلینک والے طے شدہ معیار سے نیچھے کم قوت والے ڈونروں منی لے سکتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اگر خراب کوالیٹی کے سپرم کا استعمال ہوا تو خواتین کو زیادہ قوی اور مہنگی تکنیک کا استعمال کرنا ہوگا۔

ایسا خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ سنہ 2005 میں جب نام نہ ظاہر کرنے کے حق کا خاتمہ کردیا گیا اس کے بعد سے سپرم ڈونروں کی تعداد میں خاطر خواہ کمی آئی ہے۔

یہ بھی خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ جب سے عمل تولید کی زرخیزی کے علاج میں ترقی ہوئی تو اس سے بھی سپرم ڈونرز کی مانگ میں کمی آئی ہے کیونکہ لوگ علاج کے ذریعے خود اپنے بچے کے والد بننے کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس کے بعد بھی برطانیہ میں ڈونروں کی شدید کمی کا سامنا ہے۔‘

فرٹیلیٹی کے ضابطہ کاروں کے اعدادو شمار کے مطابق ہر چار میں سے ایک سپرم ڈونر بیرون ممالک سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ پہلے سنہ 2005 میں یہ تناسب دس میں ایک کا ہوا کرتا تھا۔

برطانیہ کو سپرم فراہم کرنے والوں میں ڈنمارک اور امریکہ کے سپرم بینک اہم ہیں۔

ڈاکٹر پیسی نے متبہ کیا کہ ’اس سے مریضوں کے لیے انتخاب اور متبادل محدود ہوئے ہیں اور ان کے انتظار کی مدت میں اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں خطرناک باتیں سامنے آئی ہیں جیسے کسی دوست کے سپرم کا استعمال یا پھر ایسے ممالک میں علاج جہاں سپرم کے دینے کے لیے ضابطے کم ہیں۔‘

انھوں نے بی بی سی کو بتایا ’ڈر اس بات کا ہے کہ کلینک معیار کو کم کرکے ڈونرز کو متوجہ کریں گے اور میرے خیال میں یہ معیار کو کم کرنے کا بہت خطرناک راستہ ہے۔‘

لندن میں گائیز ہسپتال کے پروفیسر یعقوب خلف کا کہنا ہے کہ ’اب ہم پہلے سے کہیں زیادہ بیرون ممالک کے سپرم بینکوں پر انحصار کرتے ہیں۔‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply