19

بدیشی: ایک ایسی زبان جو صرف تین لوگ بولتے ہیں

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

بدیشی صرف تین لوگوں کی بولی ہے

کیا آپ ایک ایسی زبان کے چند فقرے سیکھنا چاہیں گے جسے دنیا میں صرف تین لوگ بولتے ہیں؟

یہ زبان جو سوات کی ایک برف سے ڈھکی، دشوار گزار وادی بشی گرام میں بولی جاتی ہے۔

بشی گرام کے گاؤں مغل مار میں بولی جانے والی اس زبان کا نام بدیشی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ زبانوں کا ریکارڈ رکھنے والے ادارے ایتھنولاگ کے مطابق یہ زبان معدوم ہو چکی ہے اور اس کا کوئی بولنے والا باقی نہیں بچا۔

لیکن مغل مار میں ہمیں سید گل، رحیم گل اور علی شیر ملے جو بدیشی بولنے والی نسل کے آخری نمائندے ہیں۔

سید گل نے بی بی سی کو بتایا: ‘اب یہ زبان بولنے والے نہیں رہے۔ پہلے نو دس گھر تھے جن میں بدیشی زبان بولی جاتی تھی۔ زبان اس لیے ختم ہوئی کہ باہر سے رشتے کرنے لگے۔ ان کے بچے ہوئے جس سے ہماری زبان ختم ہو گئی۔’

یہ بھی پڑھیے

طورغر کے پہاڑی گاؤں کی ایک بےنام زبان

گلگت بلتستان: قدیم زبانیں اور دائمی محرومی

‘چھوٹی’زبانیں، بڑی لاپروائی

وہ کہتے ہیں: ‘ہمارے گھر کے بچے سب توروالی زبان بولتے ہیں تو ہم کس کے ساتھ بدیشی بولیں؟’

مغل مار گاؤں جانے کے لیے پہلے تو ہمیں سوات کے قصبے بحرین سے مشرق کی طرف ایک درے میں فور ویل گاڑی میں ایک گھنٹے کا سفر کرنا پڑا۔ لیکن کس گاؤں میں جا کر سڑک بھی ختم ہو گئی اور لوگوں نے بل کھاتے ہوئے راستے کی طرف اشارہ کر کے کہا: ‘بس دس منٹ دور مغل مار ہے، ہمت کریں۔’

دیودار کے درختوں سے گھرا ہوا یہ راستہ دس منٹ کی بجائے دو گھنٹے طویل ثابت ہوا۔ جوں جوں ہم نے چڑھائی پر چڑھنا شروع کیا، آکسیجن اسی شرح سے کم ہوتی، اور آس پاس پڑی ہوئی برف کی موٹائی بڑھتی گئی۔

بالآخر جب ہمت اور توانائی کے ذخائر آخری دم پر پہنچ گئے تو کہیں جا کر درے کے اندر ندی کے کنارے چالیس، پچاس گھروں پر مشتمل گاؤں دکھائی دیا، جس کے بعض گھروں کی چھتوں سے ابھی تک برف گرائی نہیں گئی تھی۔

یہ مغل مار تھا جس کے چاروں طرف توروالی اور اشوجو زبانیں بولنے والے آباد ہیں۔ انھی زبانوں کے ثقافتی اور معاشی دباؤ نے بدیشی کو دیوار سے لگا دیا ہے۔

زبان بولنے کے مواقع نہ ہونے کی وجہ سے خود یہ تینوں اشخاص بھی بدیشی بھولتے جا رہے ہیں۔

سید گل کہتے ہیں: ‘جس طرح کوئی بہت عرصہ نماز نہ پڑھے تو اس سے نماز بھول جاتی ہے، اسی طرح ہم خود بھی یہ زبان بھولتے جا رہے ہیں۔ ہمارے بیٹے، نواسے سب توروالی بولتے ہیں۔’

ہمارے لیے بدیشی میں گفتگو ریکارڈ کرواتے وقت سید گل بعض اوقات فقرے کے بیچ میں متعلقہ لفظ بھول جاتے تھے تو رحیم گل اور علی شیر لقمہ دے کر فقرہ مکمل کر دیتے تھے۔

سید گل کے چچا زاد بھائی رحیم گل کو اپنی عمر کا اندازہ نہیں ہے۔ جب محفل میں موجود کسی نے کہا ’80 سال’ تو انھوں نے سختی سے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ‘نہیں، 50 سال۔’

وہ رحیم گل کی بات کی تائید کرتے ہیں: ‘ہم بچپن میں گھروں میں یہ زبان بولتے تھے، لیکن اب اس بات کو اتنے سال گزر گئے ہیں کہ ہم خود یہ زبان بھول رہے ہیں۔’

سید گل کا ایک بیٹا ہے لیکن ان کے گھر میں بدیشی نہیں بولی جاتی تھی، اس لیے وہ ایک آدھ لفظ کے علاوہ یہ زبان نہیں سیکھ سکے۔

‘ہمارا والد صاحب تھا، اس کا والد صاحب، اس نے چھوڑا چھوڑا، بھول گیا۔ اب ہماری 32 سال عمر ہے۔ ہمیں نہیں آتا۔ مجبوری ہے۔ تھوڑا تھوڑا، ایک ایک لفظ آتا ہے۔ اب ہم اور ہمارے بچے سب توروالی بولتے ہیں۔’

کیا انھیں افسوس ہے کہ ان کے باپ دادا کی زبان ختم ہو رہی ہے؟ بخت زمین کہتے ہیں: ‘ہمیں افسوس تو ہوتا ہے کہ زبان ختم ہو گئی۔ ہم نے بھی کبھی کوشش نہیں کہ یہ زبان سیکھ سکیں۔’

لیکن ہم آپ کو یہ موقع فراہم کر رہے ہیں کہ آپ اس نادر و نایاب زبان کے چند فقرے سیکھ سکیں۔

  • مِین ناؤ رحیم گل تھُو ۔ ۔ ۔ میرا نام رحیم گل ہے
  • مِین بدیشی جِبے آسن ۔ ۔ ۔ میں بدیشی زبان بولتا ہوں
  • اِشو کالے ہِیم کم ایکتھی ۔ ۔ ۔ اس سال برف کم پڑی ہے
  • تھِین حال کھلے تھی؟ ۔ ۔ ۔ آپ کا حال کیا ہے؟
  • مے گِروٹ کھیکتی ۔ ۔ ۔ میں نے کھانا کھا لیا ہے

بدیشی زبانوں کے کس خاندان سے تعلق رکھتی ہے؟

اس سوال کا جواب حاصل کرنے کے لیے ہم اوپر دیے گئے ایک فقرے کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ‘اس سال برف کم پڑی ہے،’ کا بدیشی ترجمہ ہے: ‘اشو کالے ہیم کم ایکتھی۔’

اس فقرے میں ‘کال’ تو سیدھا سادا ہندی کا لفظ ہے جس کا مطلب وقت یا سال ہے۔ لیکن ہیم اور بھی دلچسپ ہے۔ یہ سنسکرت کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ‘برف۔’ عظیم کوہستانی سلسلہ ‘ہمالیہ’ دو الفاظ کا مجموعہ ہے، ہیم یعنی برف + آلیہ یعنی گھر۔ تو ہمالیہ کا مطلب ہوا ‘برف کا گھر۔’

اس کے علاوہ مِین (میں)، ‘کھیکتی’ (کھا لی) اور ‘تھی’ (ہے) جیسے الفاظ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ بدیشی کا ہند آریائی زبانوں کے خاندان سے ہے۔

اسلام آباد میں واقع انسٹی ٹیوٹ فار لینگویج انیشییٹو سے وابستہ ماہرِ لسانیات زمان ساگر اس خیال کی تائید کرتے ہیں۔

انھوں نے اس علاقے کے کئی بار دورے کیے لیکن زبان سے وابستہ کم وقعتی کے تاثر کی وجہ سے کوئی شخص ان سے بدیشی میں بات کرنے کو تیار نہیں ہوا۔

وہ کہتے ہیں: ‘میں نے بدیشی کے ایک سو الفاظ کی فہرست اکٹھی کی تھی، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس زبان کا تعلق ہند آریائی خاندان سے ہے اور اس کی قریبی زبانوں میں ہنزہ اور پامیر میں بولے جانے والی وخی اور چترال میں بولے جانے والی زبان یدغا شامل ہیں۔’

بدیشی کے بطور زندہ زبان باقی بچ جانے کے امکانات تو بہت کم نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر ماہرین اس کی صوتیات اور صرف و نحو کا ریکارڈ ہی مرتب کر دیں تو کم از کم کتابوں کی حد تک اسے زندہ رکھا جا سکتا ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply