ansar abbasi 51

بابا رحمتے کی یاددہانی کے لیے

بابا رحمتے کی یاددہانی کے لیے

اللہ تعالیٰ مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائیں۔ قاضی صاحب نے سپریم کورٹ کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی فحاشی و عریانیت کو روکنے کے لیے ایک درخواست دی جس پر سو موٹو نوٹس لیا گیا لیکن پھر یہ مسئلہ کہیں گم ہی ہو گیا۔ نہ تو اب یہ معاملہ عدلیہ کی ترجیحات میں کہیں نظر آتا ہے اور نہ ہی جماعت اسلامی اور اُس کے موجودہ امیر سراج الحق صاحب کے پاس اتنا وقت ہے کہ وہ اس اہم ترین معاملے پرتوجہ دیں۔ ویسے ہو سکتا ہے سراج الحق صاحب اور جماعت اسلامی فحاشی و عریانیت کے معاشرے پر انتہائی خطرناک اثرات کی وجہ سے اندر اندر سے کڑہتے ہوں لیکن محسوس ایسا ہوتا ہے کہ دوسرے رہنمائوں اور سیاسی جماعتوں کی طرح اب جماعت اسلامی بھی میڈیا اور آزادی رائے کے علمبرداروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ اگر میرا اندازہ غلط ہے تو پھر جماعت اسلامی اس معاملے کو سپریم کورٹ میں اٹھانے اور فحاشی و عریانیت کے خلاف عوامی مہم چلانے سے گریزاں کیوں ہے؟؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ ن لیگ کے بعد اب جماعت اسلامی بھی روشن خیالی کی منزل کی طرف گامزن ہے؟؟
قصور سانحہ کے بعد اگرچہ ہمیں اصلاح معاشرہ کے لیے دوسرے بہت سے اقدامات اٹھانے ہوں گے تو وہاں پاکستان میں تیزی سے بڑھتی فحاشی و عریانیت کو بھی روکنا ہے جس کے لیے میڈیا، آزادی رائے اور free speech کے علمبرداروں سے کھل کر اختلاف کرنا ہو گا اور بغیر کسی خوف اور ڈر کے یہ بتانا ہو گا کہ ہمارے ٹی چینلز، کیبل، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کس تیزی سے ہمارے مذہبی و معاشرتی اقدار کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ جنسی جرائم کی وجہ بن رہا ہے۔ آج کے دی نیوز اخبار میں سینئر صحافی صابر شاہ کی ایک تفصیلی تحقیقی رپورٹ شائع ہوئی جس میں بتایا گیا کہ کس طرح امریکی و مغربی ادارے بشمول ایف بی آئی، انٹرپول اور یو ایس اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فحاشی اور جنسی جرائم کے تعلق کے بارے میںپریشان ہیں۔ اس رپورٹ میں بڑی تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ امریکا میں یہ مرض اس حد تک سنگین صورت اختیار کر چکا ہے کہ ہر سیکنڈ میں اٹھائیس ہزار دو سو اٹھاون امریکی فحش سائٹس دیکھتے ہیں۔ فحاشی و عریانیت پھیلانے کا کام ایک منظم انداز میں دنیا بھر میں چلایا جا رہا ہے اور صرف بچوں کی فحش فلمیں بنا کر انٹرنیٹ پر پھیلانے والوں کی تعداد ستر ہزار ہے جو دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ صابر شاہ کی اس رپورٹ میں جو بات ہمارے لیے انتہائی شرمناک ہے وہ گوگل کی 2015 کی وہ رپورٹ ہے جس میں بتایا گیا کہ اسلام کے نام پر بننے والے پاکستانی لوگوں نے اُس سال دنیا میں سب سے زیادہ فحش مواد کو انٹرنیٹ پر تلاش کیا اور دیکھا۔ یہ نتیجہ ہے اُس فحاشی و عریانیت کا جس کو روکنے کے لیے حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ کوئی بھی تیار نہیں۔ صابر شاہ نے اپنی رپورٹ میںایک سوال اٹھایا کہ پاکستانی معاشرےکو سوچنا ہو گا کہ اس انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل کے دور میں ہماری اخلاقیات کا معیار کیوں اس قدر گر گیا ہے۔ چیف جسٹس صاحب سے میری درخواست ہے کہ وہ بچوں کے تحفظ کے لیے نئے قانون ضرور بنوائیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ فحاشی و عریانیت کی پٹیشن کو بھی جلد از جلد سنیں اور ایسا حکم نامہ جاری کریں جس سے اس لعنت سے اس معاشرہ کو پاک کیا جا سکے۔ ویسے چیف جسٹس صاحب کی یاددہانی کے لیے ایک سوموٹو انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹس کے متعلق بھی کچھ سال پہلے لیا گیا تھا لیکن نہیں معلوم کہ اُس سوموٹو کا کیا ہوا کیوں کہ مرض ٹھیک ہونے کی بجائے مزید بڑھتا جا رہا ہے۔ میری بابا رحمتے سے درخواست ہے کہ ان کیسوں کو جلد از جلد سنیں تاکہ پاکستانی قوم کو فحاشی و عریانیت کے کینسر سے پاک کیا جا سکے۔
سانحہ قصور کا ذکر کرتے ہوئے، اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں صابر شاہ نے مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دور کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 1981میں لاہور میں پپو نامی ایک معصوم بچے کو اغوا اور زیادتی کےبعد قتل کر کے اُس کی لاش پھینک دی گئی۔ جنرل ضیاء الحق کی ہدایت پر اس کیس کو فوجی عدالت میں چلایا گیا جہاں ایک ہفتہ کے اندر اندر مجرموں کو سزا سنا دی گئی جس پر اُن کو اسلامی اصولوں کے مطابق سرعام لاہور کے اُسی علاقہ کے چوک پر پھانسی دی گئی جہاں سے بچہ اغوا ہوا تھا۔ سفاک مجرموں کی لاشوں کو پورا دن چوک میں لٹکائے رکھا گیا تاکہ ایسے جرائم کے متعلق ایک ڈر اور خوف پیدا کیا جا سکے۔ صابر شاہ نے لکھا کہ اس سرعام پھانسی کے بعد تقریباً دس سال تک کسی بچے کے اغوا اور اُس کے ساتھ زیادتی کاکوئی واقعہ رپورٹ نہ ہوا۔ یہ ہے اسلامی سزائووں کا وہ مثبت اثر جس کی پاکستان جیسے بگڑے ہوئے معاشرہ کو بہت ضرورت ہے، میرا تو یہ مطالبہ ہو گا کہ قصور کا سانحہ ہو یا مردان کی معصوم عاصمہ سے زیادتی اور قتل کا اندوہناک واقعہ شریک مجرموں کو اسی انداز میں فوجی عدالت میں پیش کر کے سزائیں دی جائیں اور انہیں بھی قصور اور مردان شہر کے اہم چوک چوراہوں پر پھانسی دے کر ایک دو د ن کے لیے لٹکایا جائے۔ صابر شاہ کی رپورٹ میں ایف آئی اے کی سائبر ونگ کے حوالے سے لکھا گیا کہ اس کے 33 ملازمین کو تو تنخواہ ہی نہیں مل رہی وہ انٹرنیٹ پر فحاشی و عریانیت کو کیا روکیں گے۔ لیکن میرا اعتراض تو یہ ہے کہ جب سائبر قانون کو موجودہ حکومت کے دور میں تبدیل کیا گیا تو میرے بار بار کہنے اور لکھنے کے باوجود blasphemy اور pornography کو جرائم کی لسٹ میں رکھا ہی نہیں گیا اور اس کی مبینہ وجہ این جی اوز کا پریشر تھا۔ اس معاملہ پر تو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت صدیقی صاحب نے بھی حکومت کو ہدایت کی کہ ان دونوں جرائم کو سائبر قانون میں شامل کیا جائے لیکن ابھی تک حکومت نے اس عدالتی حکم پر کوئی عمل درآمد نہیں کیا۔.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply