14

ایرانی ڈرون اسرائیل پر ‘حملے کی نیت سے بھیجا گیا تھا’

تصویر کے کاپی رائٹ
IDF

Image caption

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فروری میں جو ایرانی ڈرون انھوں نے مار گرایا ہے وہ اسرائیل پر حملے کے لیے بھیجا گيا تھا

اسرائیل نے کہا ہے کہ جس ایرانی ڈرون کو اس نے فروری میں مار گرایا تھا اس میں دھماکہ خیز مادہ تھا اور وہ ‘حملے کی نیت سے بھیجا گيا تھا۔’

جمعے کو اسرائیل فوج نے کہا کہ وہ اس نتیجے پر ڈرون کی ’پرواز کے راستے کے تجزیے’ اور اس کے ملبے کی ‘انٹیلیجنس پر مبنی جانچ’ کے بعد پہنچے ہیں۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس کے جنگی ہیلی کاپٹروں نے ایران کے اس حملے کو ناکام بنا دیا جو وہ اسرائیلی سرزمین پر کرنا چاہتا تھا۔

یہ ڈرون شام کے ایک ہوائی اڈے سے لانچ کیا گيا تھا جس پر بعد میں اسرائیل نے فضائی حملہ کیا۔

جوابی حملے میں اسرائیل کا ایک ایف 16 طیارہ تباہ ہو گیا جو اسرائیلی فورسز کے لیے کبھی کبھار ہونے والا نقصان تھا۔ تاہم اس پر سوار دونوں افراد طیارے کے تباہ ہونے سے پہلے ہی وہاں سے چھلانگ لگا کر نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

ٹی-4 نامی وہی ہوائی اڈا سوموار کو ایک بار پھر حملے کی زد میں آيا جہاں سے تقریباً دو ماہ قبل ایرانی ڈرون مبینہ طور پر چھوڑا گیا تھا۔

شام اور روس نے کہا ہے کہ حالیہ حملہ بھی اسرائیل نے کیا ہے جس میں 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل نے اس بارے میں کوئی بھی بیان دینے سے گریز کیا ہے۔ مرنے والوں میں سات ایرانی شامل تھے۔

گذشتہ فروری میں بی بی سی کے ساتھ انٹرویو کے دوران ایران کے نائب وزیر خارجہ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ ان کے ملک نے ڈرون اسرائیل بھیجا تھا اور کہا تھا کہ ڈرون شامی فوج کا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

٭ اسرائیل کی شام میں فضائی حملوں کے بعد ایران کو تنبیہ

٭ اسرائیل کا شام میں ’تیس برس میں سب سے بڑا حملہ‘

سرحد پار کرنے کے بعد اسے دس فروری کو اسرائیل کے انتہائی شمالی علاقے میں مار گرایا گيا۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا: ‘یہ واضح رہے کہ یو اے وی کی اسرائيلی دفاعی نظام نے شناخت کی اور اس ایرانی ڈرون کو ٹریک کر کے اس سے اسرائیل کو لاحق کسی خطرے کو موثر طریقے سے ختم کیا۔’

اس بیان کے جواب میں ایرانی امور کے ماہر اور مشرق وسطیٰ پر گہری نظر رکھنے والے تجزیہ نگار جوناتھن لیزلی نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘یہ عقل سے بعید ہے۔ ان الزامات کی بے وقوفی سے قطع نظر اسرائیلی فوج کس طرح کسی کی نیت کے بارے میں طے کر سکتی ہے؟ یو اے وی اسرائيل فضائی حدود میں صرف 90 سیکنڈ تک تھا۔’

ایران اور اسرائیل پرانے دشمن ہیں اور ایران پر الزام ہے کہ وہ اسرائیل کے شمال مشرقی پڑوسی شام میں دانستہ طور پر فوج تیار کر رہا ہے۔

ایران صدر بشار الاسد کا اہم علاقائی اتحادی ہے۔ اس پر لبنانی شیعہ ملیشیا گروپ حزب اللہ کو اسلحے فراہم کرنے کا بھی الزام ہے اور اس گروپ کو اسرائیل کا دشمن کہا جاتا ہے اور اس کی شام میں مضبوط فوج موجود ہے۔

سنہ 2017 کے اواخر میں اسرائیل وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے کہا: ‘ایران اسرائیل کے بالکل بغل شام میں اپنی فوج قائم کرنا چاہتا ہے۔’

انھوں نے مزید کہا: اسرائیل ایسا نہیں ہونے دے گا۔’



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply