28

ایبولا وائرس کے 70 فیصد متاثرین ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

Image caption

ایبولا سے متاثرہ علاقوں میں’انتہائی غربت، صحت کے غیر فعال نظام، ڈاکٹروں کی قلت اور شدید خوف‘ بڑے چیلنج ہیں

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے 70 فیصد افراد ہلاک ہو گئے ہیں اور یہ تعداد گذشتہ اندازوں سے زیادہ ہے۔

عالمی ادارۂ صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مزید اقدامات نہیں کیے گئے تو رواں سال نومبر تک متاثرین کی تعداد 20 ہزار تک پہنچ جائے گی۔

ایک امریکی اندازے کے مطابق بدترین صورتِ حال میں جنوری 2015 تک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچنے کا احتمال ہے۔

’ایبولا سے عالمی امن اور سکیورٹی کو خطرہ‘

عالمی ادارۂ صحت کے مطابق سینیگال اور نائجیریا میں وائرس کو کسی حد تک پھیلنے سے روکنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے جبکہ ایبولا وائرس سے متاثرہ افراد میں سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2800 ہو گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ

Image caption

ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 2800 ہو گئی ہے

عالمی ادارۂ صحت کے نئے ممکنہ اعداد و شمار امریکی طبی جریدے نیوانگلینڈ جرنل آف میڈیسن میں شائع ہوئے ہیں اور اس میں پیشن گوئی کی گئی ہے کہ نومبر تک ایبولا کیسز کی تعداد 20 ہزار کے قریب پہنچ سکتی ہے۔

متاثرہ افراد کے معائنے سے ثابت ہوتا ہے کہ وائرس سے متاثر ہونے والے افراد میں سے 70 فیصد کی موت واقع ہو گئی جبکہ اس سے پہلے یہ اندازہ 50 فیصد تھا۔

ڈبلیو ایچ او کے سینیئر اہلکار ڈاکٹر کرسٹوفر ڈائے کے مطابق: ’اگر وائرس کو روکنے کے اقدامات میں بہتری نہیں لائی گئی تو ان تین ممالک میں ہر ہفتے ہزاروں نئے کیسز اور ہلاکتوں کی اطلاعات ملیں گی اور یہ پیشن گوئی بیماریوں سے بچاؤ اور روک تھام کے امریکی ادارے ’سی ڈی سی‘ کے جائزے کے مطابق ہے۔‘

سی ڈی سی کے مطابق صرف لائبیریا اور سیئرالیون میں رواں ماہ کے اختتام تک متاثرین کی تعداد 21 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

صحت سے متعلق امریکی ایجنسی کے مطابق اگر وائرس کو روکنے کے لیے اقدامات تیز نہیں کیے گئے تو آئندہ سال جنوری تک متاثرین کی تعداد 14 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔

گذشتہ جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مغربی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ کو ’عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے خطرہ‘ قرار دیا تھا۔

سلامتی کونسل نے متفقہ قرارداد کے ذریعے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل مہیا کرے۔

سلامتی کونسل کی قرارداد میں بعض ممالک کی جانب سے عائد سفری پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان ممالک کو الگ تھلگ کرنے کی بجائے وہاں امداد پہنچائی جانی چاہیے۔

اقوام متحدہ کے اہلکار کہہ چکے ہیں کہ ایبولا کا اس قدر تیزی سے پھیلاؤ صحت عامہ کا ایسا چیلنج ہے کہ ’دور حاضر میں جس کی مثال نظر نہیں ملتی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

سلامتی کونسل نے متفقہ قرارداد کے ذریعے دنیا پر زور دیا ہے کہ وہ ایبولا وائرس سے نمٹنے کے لیے زیادہ وسائل مہیا کریں

اقوام متحدہ کے ایبولا کے خلاف مہم کے رابطہ کار کے مطابق صرف گذشتہ ایک ماہ کے دوران ایبولا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے درکار رقم میں دس گنا کا اضافہ ہو چکا ہے۔

ایبولا کا وائرس فروری میں گنی سے پھیلنا شروع ہوا تھا اور اب تک وہ لائبیریا، سیئرالیون اور نائجیریا تک پھیل چکا ہے۔

طبی خیراتی ادارے میڈیسن سانز فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں ایبولا کی وبا پر قابو پانے میں کم از کم چھ ماہ کا وقت لگ سکتا ہے۔

صحت کے عالمی ادارے کے مطابق اس وائرس کی روک تھام میں ایک چیلنج یہ ہے کہ جو علاقے ایبولا سے متاثر ہیں وہ ’انتہائی غربت، صحت کے غیر فعال نظام، ڈاکٹروں کی قلت اور شدید خوف‘ کا شکار ہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply