13

انڈیا: کیا کانگریس کے پاس پیسے ختم ہو گئے ہیں؟

انتخابات

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

انڈیا کی آزادی کے بعد 71 سالوں میں سے 49 سال ملک پر حکمرانی کرنے والی ملک کی سب سے پرانی سیاسی جماعت کانگریس نے اپنی 133 سالہ تاریخ میں پہلی دفعہ عوام سے چندے کی اپیل کی ہے۔

1885 میں برطانوی سامراج کی مخالفت کرنے کے لیے انڈین دانشوروں کی کاوشوں سے قائم کی گئی جماعت ایک تحریک بن گئی جس کو عوام الناس میں بے انتہا مقبولیت حاصل تھی اور ان کو پیسوں کی کبھی کمی محسوس نہ ہوئی۔

لیکن جمعرات کو کانگریس کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے عوام کو کہا گیا کہ وہ چندے کے لیے ‘کچھ رقم’ دیں اور اس ٹویٹ کے بعد ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔

کانگریس کو کہاں ڈھونڈیں؟

راہُل گاندھی اور کانگریس کے ٹوئٹر اکاونٹ ہیک

پریانکا،کانگریس کی ڈوبتی نیّا کا سہارا؟

کئی لوگوں نے اس کو ری ٹویٹ کیا لیکن دیگر کئی لوگوں نے اس پر اپنے غصے کا اظہار کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ ان کو اس بات پر یقین نہیں آیا کہ انڈیا کی ‘گرینڈ اولڈ پارٹی’ یعنی سب سے پرانی سیاسی جماعت کے پاس پیسوں کی کمی ہو گئی ہے۔

تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ جماعت کی جانب سے اس بات کی کوشش ہے کہ وہ اپنی شفافیت ثابت کرنے کے لیے دکھائیں کہ وہ صرف اپنے حامیوں کی جانب سے دی گئی رقم سے چلتی ہے یا ان کو حقیقتاً پیسوں کی کمی کا سامنا ہے۔

کانگریس کے پاس کتنے پیسے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

کانگریس کی رکن اور جماعت کی سوشل میڈیا ٹیم کی سربراہ دیویا سپندنا نے حال ہی میں کاروباری جریدے بلومبرگ کو بتایا کہ ‘جماعت کے پاس اب پیسے نہیں ہیں۔’

الیکشن کے غیر سرکاری نگراں ادارے ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (اے ڈی آر) کے مطابق کانگریس کی سال 2017 میں آمدنی تین کروڑ ڈالر ہے۔

گو کہ یہ رقم دیکھنے میں کافی لگتی ہے لیکن ان کے مقابلے میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے اسی سال کے لیے اپنی آمدنی پندرہ کروڑ ڈالر سے زیادہ ظاہر کی ہے۔

کانگریس ابھی بھی انڈیا کی دوسری سب سے امیر جماعت ہے لیکن 2017 میں ان کی آمدنی میں 50 لاکھ ڈالر سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی ہے لیکن بی جے پی نے 2016 کے مقابلے میں اپنی آمدنی میں دگنا اضافہ کیا ہے۔

جماعتوں کی آمدنی کے ذرائع میں چندے، پارٹی ممبران کی جانب سے ادا کی گئی فیس، بینک میں رکھی رقم پر سود اور دوسرے مالی ذرائع ہیں۔ لیکن یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان کے پاس ان کے علاوہ بھی کوئی ذرائع ہیں جن سے وہ اپنی آمدنی بڑھا سکیں؟

اے ڈی آر کی تحقیق کے مطابق 2017 میں 69 فیصد جماعتوں کی آمدنی کے ذرائع کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ اس کے علاوہ وہ پیسے جن کو کھاتوں میں دکھایا ہی نہیں جاتا۔

کوئی سیاسی جماعت کے پیسے کیسے ختم ہو سکتے ہیں؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

انڈیا میں انتخابات میں کافی خطیر رقم صرف ہوتی ہے۔ 2014 کے انتخابات میں امیدواروں نے پانچ ارب ڈالر کی رقم خرچ کی تھی۔ اس کے مقابلے میں 2012 میں ہونے والے امریکی انتخابات میں چھ ارب ڈالر کی رقم صرف ہوئی تھی۔

تو وہ جماعت جو جتنے عرصے حکومت سے دور رہے گی، اس کے پاس پیسے بنانے کے وسائل اور مواقعے اتنے ہی کم ہوتے ہیں اور کئی ماہرین کے مطابق کانگریس کی انتخابی کارکردگی ان کی سیاسی کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔

2014 کے انتخابات میں جماعت کو صرف 20 فیصد ووٹ ملے اور وہ پارلیمان میں صرف 44 سیٹس حاصل کر پائی جو کہ 543 ممبران پر مشتمل ایوان کا صرف آٹھ فیصد حصہ ہے۔ یا ان کی تاریخ کی سب سے بری کارکردگی تھی۔

ان کے مقابلے میں بے جے پی اور ان کی حامی جماعتوں نے ملک کی 29 میں سے 22 ریاستوں میں کامیابی حاصل کی۔

2019 کے الیکشن میں کانگریس کو کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

اے ڈی آر کے رکن ویپول مدگل کہتے ہیں کہ کانگریس کی جانب سے چندہ مانگنے کی اپیل عوام کو دکھانے کے لیے ایک طریقہ ہے کہ وہ خود کو صاف، شفاف جماعت کے طور پر سامنے لائیں۔

مدگل کہتے ہیں کہ انتخابات میں ایک امیدوار اوسطً 14 لاکھ ڈالر کی رقم خرچ کرتا ہے لیکن جماعتوں کی جانب سے ظاہر کی گئی آمدنی اس کے مقابلے میں کہیں کم ہوتی ہے۔

انڈیا میں انتخابی مہم اور الیکشن ریلیاں کافی منظم اور بڑے پیمانے پر منعقد ہوتی ہیں اور اس میں مختلف نوعیت کے بڑے خرچے کیے جاتے ہیں جیسے چارٹرڈ طیارے اور سوشل میڈیا کے ماہروں کی خدمات حاصل کرنا، اور یہ تمام چیزیں کسی بھی پارٹی کی تجوری پر بھاری پڑتی ہیں۔

سوال یہ ہے کہ کیا اگلے برس ہونے والے انتخابات میں انڈیا کی سب سے پرانی جماعت اس مشکل کو جھیل پائے گی یا نہیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply