83

’انڈیا میں دو کروڑ دس لاکھ ان چاہی لڑکیاں ہیں‘

’انڈیا میں دو کروڑ دس لاکھ ان چاہی لڑکیاں ہیں‘

انڈیا میں ایک حکومتی رپورٹ کے مطابق والدین میں بیٹیوں کی جگہ بیٹوں کی خواہش کے باعث ’ان چاہی لڑکیوں‘ کی تعداد دو کروڑ دس لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ کی رپورٹ سے معلوم ہوا ہے کہ بہت سے جوڑے اس وقت تک بچے پیدا کرتے ہیں جب تک ان کے ہاں بیٹے کی پیدائش نہیں ہو جاتی۔

رپورٹ مرتب کرنے والوں نے اسے من چاہی جنس کے لیے اسقاط حمل کے مقابلے میں ’نفیس طریقہ کار‘ قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے خبردار بھی کیا ہے کہ اس سے لڑکیوں کے لیے وسائل کی کمی ہو سکتی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’بیٹے کی خواہش انڈین معاشرے کا معاملہ ہے‘۔

رپورٹ مرتب کرنے والوں کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ چھ کروڑ 30 لاکھ خواتین انڈیا کی آبادی میں سے ’غائب‘ ہیں کیونکہ بیٹوں کو ترجیح دینے کی وجہ سے من چاہی جنس کے لیے اسقاط حمل کروایا گیا اور لڑکوں کی دیکھ بھال زیادہ کی گئی۔

پیدائش سے قبل بچے کی جنس معلوم کرنے کے لیے کیے جانے والا ٹیسٹ انڈیا میں غیرقانونی ہے، لیکن اس کے باوجود یہ ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں اور اسی کی بنا کر من چاہی جنس کے لیے اسقاط حمل کروائے جاتے ہیں۔

بیٹوں کو ترجیح دینے کی بعض ثقافتی وجوہات:

  • جائیداد بیٹوں کو منتقل ہوتی ہے، بیٹیوں کو نہیں
  • خاندانوں کو ان کی بیٹیوں کی شادی کے لیے جہیز دینا پڑتا ہے
  • خواتین کو شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر جانا پڑتا ہے

ثقافتی اعتبار سے لڑکوں کو ترجیح دینے کی خواہشات اتنی بڑھ چکی ہیں کہ ایک اخبار نے بعض ایسے طریقہ کار بتائے ہیں جو سائنسی طور پر نہیں ملتے۔ ان طریقہ کار میں لڑکوں کی پیدائش کے لیے مغرب کی جانب منہ کر کے سونا اور ہفتے کے مخصوص دنوں میں سیکس کرنا شامل ہے۔

انڈیا میں سب سے زیادہ پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں لڑکوں کی پیدائش کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے جبکہ سب سے کم ترجیح مگھلایا ریاست میں دی جاتی ہے۔

اکنامک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ پنجاب اور ہریانہ کی ریاستوں میں 1200 بچے سات سال کی عمر کے ہیں جبکہ اسی عمر کی صرف 1000 بچیاں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply