40

انڈیا دس برس سے جنگی ہتھیار خریدنے والا سب سے بڑا ملک، پاکستان میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

دفاعی ماہرین کے مطابق انڈیا نے گزشتہ دس برس میں سو ارب ڈالر سے زیادہ نئے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خرید پر صرف کیے۔

انڈیا گزشتہ دس برس سے جنگی ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ پچھلے دس برس کے دوران انڈیا کے ہتھیاروں کی خرید میں چوبیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے برعکس اس مدت میں پاکستان میں ہتھیاروں کی خرید میں ایک تہائی کی کمی واقع ہوئی ہے۔ ان حقائق کا انکشاف سویڈین کے ایک سرکردہ تحقیقی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا ہے۔

سٹاک ہولم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے پوری دنیا میں ہتھیاروں کی برآمدات کے اس جائزے میں کہا ہے کہ اسلحے کی خریداری میں مشرق وسطی کے ممالک اور ایشیا سب سے آگے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ، روس، فرانس ، جرمنی اور چین ہتھیار برآمد کرنے والے سب سے بڑے ممالک ہیں۔

انسٹی ٹیوٹ کے سینیئر محقق سیمون ٹی ویزے مین نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ اس رپورٹ میں بڑے جنگی ہتھیاروں کی خرید اور برآمدات کی بنیاد پر ملکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ لیکن اس میں ان ہتھیاروں کی خرید پر آنے والے اخراجات کو سامنے نہیں رکھا گیا ہے۔

سیمون نے بتایا کہ 2013 -17 کے دوران انڈیا بڑے ہتھیار خریدنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک رہا۔ پورے دنیا میں جتنے ہتھیار بکے اس کا بارہ فیصد اکیلے انڈیا نے خریدا۔ 2008 سے 2017 تک دس برس میں انڈیا کے ہتھیاروں کی خرید میں جوبیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ روس انڈیا سب سے بڑا سپلائیرہے۔ لیکن پچھلے دس برس میں امریکہ سے ہتھیاروں کی خریدی میں 557 فیصد کا اضافہ ہوا۔ اسرائیل انڈیا کا تیسرا سب سے بڑا دفاعی سپلائیر ہے۔

سیمون ویزے مین نے بی بی سی کو بتایا کہ ’چین اور پاکستان سے کشیدگی انڈیا کی ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی مانگ میں اضافے کا سبب ہے کیونکہ وہ خود بڑے جنگی ہتھیار بنانے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔‘

دفاعی ماہرین کے مطابق انڈیا نے گزشتہ دس برس میں سو ارب ڈالر سے زیادہ نئے ہتھیاروں اور دفاعی نظام کی خرید پر صرف کیے۔ اس مدت میں نئے جنگی جہازوں، میزائل، آبدوزوں، ٹینکوں، ہاویٹزر توپوں، سپیشل طیاروں اور دوسرے ہتھیاروں کی خرید کے لیے سودے کیے گئے۔ ابھی گزشتہ مہینے انڈیا نے دفاعی اخراجات کے لیے 51 ارب ڈالر مختص کیے ہیں جس میں تقریباً 16 ارب ڈالر نئے ہتھیاروں اور جنگی ساز وسامان کے حصول کے لیے ہیں۔

سیمون نے بتایا کہ انڈیا سے مسلسل کشیدگی کے باوجود گزشتہ دس برس کے دوران پاکستان کے ہتھیاروں کی درآمد میں 36 فیصد کی کمی آئی ہے۔ یہ پوری دنیا میں ہتھیاروں کی فروخت کا تقریـباً تین فیصد ہے۔ پچھلے پانج برس میں پاکستان میں امریکہ سے خریدے جانے والے ہتھیاروں میں 76 فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

گزشتہ دس برس کے دوران افریقی ممالک ، یورپ اور جنوبی امریکہ میں ہتھاروں کی درآمد میں بائیس فی صد کی کمی آئی ہے۔

چین میں ہتھیاروں کی درآمد میں 19 فیصد کی کمی آئی ہے۔ سیمن نے بتایا کہ ‘چین بڑی تیزی سے ہتھیار اور جنگی ساز وسامان بنانے والے ملک کے طور پر ابھر رہا ہے۔ وہ دنیا کا پانچواں سب سے بڑا ایکسپورٹر بن چکا ہے۔ پاکستان کا وہ سب سے بڑا سپلائیر ہے، اس کے علاوہ برما، بنگلہ دیش اور کئی افریقی ممالک بھی ہتھیاروں کے لیے اب چین کا رخ کر رہے ہیں۔

جنوبی ایشیا اور مشرق وسطی کا ذکر کرتے ہوئے سیمون نے کہا کہ یہ خطے مسلسل کشیدگی کی گرفت میں ہیں۔ ’یہ ممالک ہتھیاروں کی خریداری سے مستقبل کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن دراصل اس سے خطے میں عدم تحفظ اور کشیدگی کے ماحول کو اور زیادہ ہوا مل رہی ہے۔‘

انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ جین ایلیاسن نے اس رپورٹ میں کہا ہے کہ ’ہتھیاروں کی بڑھتی ہوئی خرید سے بین الاقوامی امن اور سلامتی پر پڑنے والے اثرات پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے’ اسلحہ تجارت کنونشن’ جیسے بین الاقوامی ضابطوں کو مستحکم اور نافذ کرنے کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔‘

گزشتہ دس برس کے دوران افریقی ممالک، یورپ اور جنوبی امریکہ میں ہتھیاروں کی درآمد میں بائیس فیصد کی کمی آئی ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply