26

انتخابی قوانین میں ترامیم کی تجویز

تصویر کے کاپی رائٹ

Image caption

کاغذاتِ نامزدگی میں غلط اثاثے ظاہر کرنے والے امیدواروں کو تین سال قید کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے انتخابی قوانین میں ترامیم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں تجویز کردہ ترامیم کا مسودہ انتخابات سے متعلق پارلیمان کی اصلاحاتی کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

ان تجاویز میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کے دوران ریٹرنگ افسران الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوں گے، تاہم اس بارے میں یہ نہیں بتایاگیا کہ آئندہ انتخابات کے لیے ریٹرنگ افسران عدلیہ سے لیے جائیں گے یا کسی دوسرے محکمے سے۔

ان تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان صدر مملکت خود نہیں کریں گے بلکہ اس میں الیکشن کمیشن کی مشاورت شامل ہوگی۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجی جانے والی تجاویز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کی مدت سات روز سے بڑھا کر 15 روز کر دی جائے۔

اس کے علاوہ پولنگ سے 90 روز پہلے ووٹوں کی کسی دوسرے حلقے میں منتقلی پر پابندی عائد کر دی جائے۔

ان تجاویز میں کاغذاتِ نامزدگی میں غلط اثاثے ظاہر کرنے والے امیدواروں کو تین سال قید کے علاوہ ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔

دوسری جانب سنہ 2013 کے انتخابات سے متعلق ایک رپورٹ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر جاری کی گئی ہے جس کے بارے میں الیکشن کمیشن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ الیکشن کمیشن نے نہیں جاری کی بلکہ یہ انتخابات کے دوران مقامی مبصرین کے مشاہدات کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ گذشتہ برس ہونے والے انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی رپورٹ جلد شائع کر دی جائے گی۔

مبصرین کے مشاہدات پر مبنی رپورٹ میں کہا گیا ہے ان انتخابات کے دوران امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال صحیح طریقے سے نہیں ہو سکی جس سے یہ معلوم ہوتا ہو کہ امیدوار اہلیت سے متعلق آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اُترتے ہیں یا نہیں۔

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ان امیدواروں کے کاغداتِ نامزدگی کی جانچ پڑتال کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو، قومی احتساب بیورو، نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی اور سٹیٹ بینک نے بھی الیکشن کمیشن کے ساتھ تعاون نہیں کیا جس کی وجہ سے کاغدات نامزدگی کی جانچ پڑتال میں خامیاں رہ گئی تھیں۔

ان تجاویز میں قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کی مہم کے دوران اخراجات بڑھانے کا بھی ذکر کیا گیا۔

اس سے پہلے قومی اسمبلی کا امیدوار انتخابی مہم کے دوران 15 لاکھ جبکہ صوبائی اسمبلی کا امیدوار دس لاکھ روپے تک خرچ کرنے کا مجاز تھا۔

امیدواروں کے کاغذاتِ نامزدگی کے لیے الیکشن کمیشن میں ایک مرکزی سیل بنایا گیا تھا جس میں نیب، ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور نادرا کے اہلکار شامل تھے تاہم اس سیل نے بھی اپنی ذمہ داریاں موثر طریقے سے ادا نہیں کیں۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریٹرنگ افسران کاغذات نامزدگی کو منظور کرنے اور مسترد کرنے کے مجاز تھے تاہم الیکشن کمیشن نے ریٹرنگ افسران کو اس طریقۂ کار کے بارے میں ہدایات نہیں دی گئی تھیں اور یہ معاملہ ان افسران کی عدالتی اہلیت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply