13

امتحانات میں ’ہائی ٹیک‘ نقل کروانے کا منصوبہ پکڑا گیا

طالب علم

ایک سنگاپورین ٹیوٹر نے تسلیم کیا ہے کہ اس نے سنہ 2016 میں چھ چینی طالب علموں کو نقل کرنے میں مدد فراہم کی تھی جبکہ استغاثہ کا کہنا ہے کہ یہ کام مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ کیا گیا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ ٹین کیا یان نے پرائیویٹ امیدوار کے طور امتحان دیا تھا اور سوالات اپنے ساتھیوں کو فیس ٹائم کے ذریعے بھجوا دیے جنھوں نے طالب علموں کو کال کی اور جواب انھیں پڑھ کر سنائے۔

طالب علموں نے امتحانات کے دوران چوری چھپے موبائل فون، بلوٹوتھ ڈیوائسز اورجلد کے رنگ والے ایئر فونز کا استعمال کیا۔

ٹین کیا یان پر 27 الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ دیگر تین افراد نے نقل کروانے کے الزامات کی تردید کی ہے۔

یہ او لیول کے امتحانات تھے جو عموماً 16 سال کی عمر کے طالب دیتے ہیں۔

استغاثہ کے مطابق نقل کا یہ منصوبہ اس وقت افشا ہوا جب نگران امتحان نے غور کیا کہ ایک طالب علم سے کچھ غیرمعمولی آوازیں آرہی ہیں۔

اس طالب علم کو امتحان کے بعد الگ کیا گیا اور اس کو بنیان اتارنے کا کہا گیا۔ ایک موبائل فون، بلوٹوتھ ڈیوائس اور جلد کا ہم رنگ کانوں میں لگانے والا آلہ برآمد ہوا۔

یہ بھی پڑھیں!

بہار: امتحانات میں جوتوں، جرابوں پر پابندی کیوں؟

بھارت میں نقل کے انوکھے انداز

نقل کرتے ہوئے پکڑے جانے کے بعد طالبہ کی خودکشی

پیر کو مقدمے کی سماعت کے آغاز کے پہلے دن استغاثہ کا کہنا ہے کہ ٹین کیا یان اور اس کے ساتھیوں نے اکتوبر 2016 میں سنگاپور اگزامینیشنز اینڈ اسیسمینٹ بورڈ کے امتحانات میں چھ طالب علموں امتحانات میں نقل کروانے میں مدد فراہم کی تھی۔

چینل نیوز ایشیا کے مطابق ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر وڈیوالگن شنموگا کا کہنا تھا کہ ’نقل کی کارروائی انتہائی نفیس انداز میں کی گئی تھی۔‘

ٹین کیا یان اس وقت زیئس ایجوکیشن سینٹر میں ملازمت کر رہے تھے۔

دیگر تین ملزمان میں سینٹر کے پرنسپل پوہ یوان نی اور ان کے دو ساتھی استاد فیونا پوہ من اور فینگ ریوین شامل ہیں۔

پوہ یوان نی پر ایک چینی شہری سے 8000 سنگاپورین ڈالر لینے اور زیئس ایجوکیشن سینٹر بھجوائے گئے ہر طالب علم سے 1000 سنگاپورین ڈالر لینے کا الزام ہے۔

اگر طالب علم امتحانات میں فیل ہو جاتے تو انھیں یہ رقوم واپس مل جانی تھیں۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply