23

الیکشن کمیشن میں نئی ٹکٹیں مسترد، مسلم لیگ ن بطور جماعت سینیٹ کے انتخابات سے باہر ہو گئی

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

الیکشن کمیشن نے حکمراں جماعت مسلم لیگ ن کے سربراہ کی نااہلی کے بعد اس کے چیئرمین کی جانب سے سینیٹ انتخابات کے لیے جاری کیے گئے ٹکٹس کو مسترد کر دیا ہے۔

جمعرات کو مسلم لیگ ن کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے سینیٹ کے انتخابات کے لیے پارٹی ارکان کو نئے ٹکٹ جاری کیے تھے اور یہ ٹکٹ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے تھے۔

تاہم الیکشن کمیشن کے ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ مسلم لیگ نون کے ارکان کو سینیٹ کے جاری کردہ نئے ٹکٹس کو مسترد کرتے ہوئے انھیں آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

’پارٹی صدارت سے نااہلی کا فیصلہ غیرمتوقع نہیں تھا‘

’قیادت وہی سنبھالے گا جسے نواز شریف اہل سمجھیں گے‘

الیکشن کمیشن کے مطابق سینیٹ کے انتخابات کے شیڈول کے مطابق اب کسی سیاسی جماعت کی جانب سے نئے ٹکٹس جاری نہیں کیے جا سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے انکار کے بعد مسلم لیگ ن بطور جماعت سینیٹ کے انتخابات سے باہر ہو گئی ہے اور اب اس کے ارکان آزاد حیثیت میں انتخاب میں حصہ لے سکتے ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد چار راستے تھے جن میں سینیٹ اور آئندہ سرگودھا اور گھوٹکی میں ہونے والے ضمنی انتخابات کو ملتوی کر دینا، مسلم لیگ نون کی جانب سے نامزد کردہ امیدواروں کے بغیر سینیٹ کا الیکشن کرانا، انتخابات کو ملتوی کر کے نئے ٹکٹ جاری کرنے کا موقع دینا اور چوتھا راستہ تھا کہ انھیں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن میں حصہ لینے دیا جائے۔

پاکستان الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری کنور دلشار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد درمیانی راستہ اپناتے ہوئے مسلم لیگ نون کے نامزد امیداروں کو آزاد حیثیت سے انتخاب میں حصہ لینے کی اجازت دی ہے۔

انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مسلم لیگ نون کے امیدواروں کی پارٹی سے وابستگی کو ختم کیا ہے اور سینیٹ انتخابات میں کامیاب ہونے کے بعد ان کی صوابدید پر ہو گا کہ وہ جس مرضی پارٹی میں شمولیت اختیار کریں یا آزاد رکن کی حیثیت سے سینیٹ کے رکن رہیں۔

’اصولی طور پر نواز شریف کے نام سے جو لوگ نامزد کیے گئے تھے لیکن ان کی نامزدگی واپس لے لی گئی ہے اور اب وہ آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب میں حصہ لے سکیں گے، اور کامیاب ہونے کی صورت میں ان امیدواروں کی صوابدید پر ہو گا کہ وہ کس جماعت میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔‘

کنور دلشار نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن یہ ردمیانی راستہ نہ اپناتا تو سینیٹ کے انتخابات التوا کا شکار ہو جاتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

نواز شریف کو سپریم کورٹ نے پارٹی کی قیادت کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا

خیال رہے کہ ایک دن پہلے بدھ کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے انتخابی اصلاحات ایکٹ کے مقدمے میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو ان کی سیاسی جماعت کی صدارت کے لیے بھی نااہل قرار دیا ہے اور ان کی جانب سے 28 جولائی کے بعد بطور پارٹی صدر کیے جانے والے تمام فیصلے بھی کالعدم قرار دے دیے ہیں۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے پاکستان مسلم لیگ ن کے نام کے آگے موجود خانے میں پارٹی سربراہ کا نام ہٹا دیا تھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد جمعرات کو اپنا ردعمل دیتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ ‘کل کا جو فیصلہ ہے، جسے پارلیمان کہتے ہیں اس کا اختیار بھی چھین لیا گیا ہے اور جو 28 جولائی کا فیصلہ تھا جس میں میری وزارت عظمیٰ چھین لی گئی، یہ جو فیصلہ ہے میرے لیے غیر متوقع فیصلہ نہیں ہے۔’

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اب ان کا نام ہی باقی بچا ہے اور ‘میرا نام محمد نواز شریف ہے۔ اس کو بھی چھیننا ہے تو چھین لیں۔’



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply