27

اسلام آباد میں آزادی مارچ کے گانوں کی فروخت

Image caption

آگے فوٹو گرافی کی دکان ہے، وہ پی ٹی آئی کے حامی ہیں آپ وہاں اپنی فلمنگ کر لیں: دکاندار

بعض اوقات ایک ہی گفتگو سے ملک میں سیاسی تقسیم کی انتہا کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مگر یہ بات چیت نہ ہی کسی صحافی سے ہوئی، نہ تجزیہ نگار سے اور نہ ہی ٹیکسی ڈرائیور سے۔

میں اور میرے کیمرا مین اسلام آباد کے مشہور بازار جناح سوپر گئے جہاں ہم نے سی ڈیز اور ڈی وی ڈیز بیچنے والے دکانوں میں فلم بندی کرنا تھی۔ کچھ روز قبل میں نے دیکھا تھا کہ ایسی دکانوں میں پاکستان تحریکِ انصاف کے آزادی مارچ کے گانوں پر مشتمل سی ڈیز بکنا شروع ہوئی ہیں۔ قیمت سو روپے فی سی ڈی۔ ان میں زیادہ تر جنید جمشید، عطا اللہ عیسیٰ خیلوی اور ابرار الحق جیسے گلوکاروں کے گانے ہیں۔

پی ٹی آئی کے دھرنے کا ایک ماہ گزرنے کے بعد کئی موڑ آئے ہیں، گرفتاریاں، لڑائی، جھگڑے اور فساد۔ تاہم سیاسی شخصیات ہوں یا غیرسیاسی لوگ، دونوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شبینہ تقاریب میں گانے اور ماحول لوگوں کے لیے کشش کا باعث ہیں۔

پی ٹی آئی کی مخالف جماعتوں نےان کو فحاشی اور محض کنسرٹ کہہ کر مسترد کیا ہے، تاہم، یہ گانے اور ماحول اب اس جماعت کی پہچان بن گئے ہیں۔

میں اور میرے کیمرا مین پہلے تو ایک بڑی دکان میں گئے۔ کاؤنٹر پر موجود دکان کے عملے سے بات کی، جیسے ہم حسبِ معمول کرتے ہیں۔ اپنا تعارف کرایا، سی ڈی کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ ہم 20 سیکنڈ کی فلم بندی کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے صاف انکار کر دیا۔ میں نے پوچھا کہ کیا ہم مینیجر سے بات کر سکتے ہیں؟ انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت موجود نہیں ہیں۔ میں نے پھر کہا کہ کیا ان سے فون پر بات کر سکتے ہیں؟ انھوں نے پھر کہا کہ وہ تو میٹنگ میں مصروف ہیں، آپ کسی اور روز آ جائیں۔ مایوس ہو کر ہم وہاں سے نکل پڑے۔

اس سے پہلے بھی ہم مختلف رپورٹوں کے لیے سی ڈیز کی دکانوں میں فلم بندی کرتے رہے ہیں، مگر ایسے صاف انکار کا سامنا پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ یہ بات غیر معمولی سی لگی۔

ہم نے پھر چھوٹی دکانوں کا رخ کیا۔ پلازے کے تہہ خانے میں کئی ایسی دکانیں تھیں اور ہم اس دکان پر گئے جس کا طول و عرض گھر کے ایک کمرے کے برابر بھی نہیں تھا۔ وہاں تین شخص کھڑے تھے۔ حسبِ معمول اپنا تعارف کرایا اور ادارے کی نشاندہی کرتے ہوئے آزادی مارچ کی سی ڈیز کے بارے میں پوچھا۔ یہاں بھی دکاندار نے فلم بندی کی اجازت نہیں دی۔

اس بار میں پیچھے نہ ہٹی: ’آخر وجہ کیا ہے؟ حرج کیا ہے؟ ہم نہ تو دکان دکھائیں گے اور نہ ہی لوگوں کے چہرے۔‘

انھوں بتایا: ’ہمارا تعلق نون لیگ سے ہے اور پی ٹی آئی والے ہمارا پیچھے پڑ جاتے ہیں۔‘

میں نے کہا: ’آخر آپ سی ڈی تو بیچ رہے ہیں؟‘

’جی، یہ تو ہمارا کاروبار ہے۔ جیسے ہم بھارتی فلمیں اور گانے رکھتے ہیں، ویسے ہی ہم نے کچھ دن پہلے یہ بھی رکھ دیں۔‘

میں نے نوٹ کیا کہ آزادی مارچ کی سی ڈیز کو سامنے نہیں رکھا ہوا تھا۔ ’کتنی بک رہی ہیں؟‘

’اتنی سیل نہیں ہو رہی، بس روزانہ ایک دو۔ جس طرح انتخابات کے زمانے میں عمران خان کی ڈی وی ڈیز بہت بکی تھیں، اس طرح یہ نہیں بک رہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
EPA

Image caption

دونوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ شبینہ تقاریب میں گانے اور ماحول لوگوں کے لیے کشش کا باعث ہیں

میں نے پھر فلمنگ کرنے پر اصرار کیا تو وہ تنگ آ کر بولے: ’دیکھیں ہم ہیں ن لیگ کے، اور عمران خان صاحب بہت اچھی باتیں کرتے ہیں مگر ہم نہیں چاہتے کہ پی ٹی آئی اور ن لیگ ہمارے پیچھے پڑیں۔ ہم سی ڈیز بیچتے ہیں، نیوٹرل ہیں۔ ہم سیاست میں نہیں پڑنا چاہتے۔‘

ایک اور دکاندار نے کہا: ’آگے فوٹو گرافی کی دکان ہے، وہ پی ٹی آئی کے حامی ہیں آپ وہاں اپنی فلمنگ کر لیں۔‘

میں نے ان کو بتایا کہ ہمارا تعلق بی بی سی سے ہے اور ہم غیر جانب دار ادارہ ہیں، تو پیچھے ایک دکاندار نے ہمیں کہا: ’لگتا ہے کہ آپ کو کوئی خریدنا نہیں چاہتا۔‘

دال گلتی نہ دیکھ کر ہم یہاں سے بھی خالی ہاتھ نکل آئے۔ لیکن خیال ضرور آیا کہ سی ڈی والے پولیس، پائریسی اور مولویوں سے تو نہیں ڈرتے، سیاسی کارکنوں کا خوف ان پر ضرور طاری ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply