12

آزادی صحافت: ’سینسرشپ سے خبر دبنے کے بجائے زیادہ پھیل جاتی ہے‘

اخبارات

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

جب اس ماہ آٹھ اپریل کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں (فاٹا) کے عوام کے بنیادی حقوق کی آواز اٹھانے والی تنظیم پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) نے اپنا جلسہ کیا تو ملک میں ہونے والے دیگر سیاسی جلسوں اور دھرنوں کے برعکس الیکٹرانک میڈیا پر اس کی کوریج خال خال ہی رہی۔

اس جلسے میں شرکت کرنے والوں کی تعداد محتاط اندازوں کے مطابق 20 سے 30 ہزار افراد پر مشتمل تھی لیکن اس کے بارے میں کچھ جاننے اور دیکھنے کے لیے صرف سوشل میڈیا ہی واحد راستہ تھا۔

مزید پڑھیئے

’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

’جب صحافی ریاستی اداروں کی زبان بولنے لگیں‘

پاکستان میں نیو یارک ٹائمز کا اداریہ ’صاف‘

اگلے روز اخبارات میں بھی، ماسوائے انگریزی اخبار ڈان کے، پی ٹی ایم کے اس جلسے کی خبریں دبے لفظوں میں صرف اندرونی صفحات پر نظر آئیں۔

جلسے کے چار روز بعد راولپنڈی میں پاکستانی فوج کے مرکزی دفتر جی ایچ کیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پی ٹی ایم کا نام لیے بغیر تنظیم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’جب سے فاٹا میں امن آیا ہے لوگوں نے ایک اور تحریک شروع کر دی ہے اور باہر اور اندر سے کچھ لوگ پاکستان کی سالمیت کے درپے ہیں۔‘

آرمی چیف کے بیان کے دو روز بعد جنگ گروپ سے تعلق رکھنے والے انگریزی اخبار دی نیوز کے کالم نویس اور وکیل بابر ستار نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’میڈیا پر پی ٹی ایم کے بارے میں بات کرنے پر پابندی ہے اور جنگ اور جیو کو حکم دیا گیا ہے کہ حساس موضوعات کو ہاتھ نہ لگائیں تو میرا ہفتہ وار کالم اس بار نہیں چھپا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

ایک دن بعد دی نیوز اخبار میں ہی اتوار کو شائع ہونے والے جریدے ’دی نیوز آن سنڈے‘ کا پی ٹی ایم کے بارے میں خصوصی ضمیمہ شائع ہوا لیکن جب وہ مضامین ویب سائٹ پر لگے تو جریدے کی مدیر فرح ضیا کو انتظامیہ سے پیغام ملا کہ انھیں وہاں سے ہٹایا جائے۔

اس حوالے سے کیے جانے والے سوال پر فرح ضیا نے بی بی سی کو بتایا: ’اتوار کو جب پشتون تحفظ تحریک کے بارے میں ہمارے مضامین اخبار میں شائع ہونے کے بعد ہماری ویب سائٹ پر لگے اور سوشل میڈیا پر ان کا چرچا ہوا تو ہمیں انتظامیہ کی جانب سے پیغام ملا کے انھیں ویب سائٹ سے ہٹایا جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ ایسا غالباً پہلی دفعہ ہوا ہے کہ ہمارے کسی مضمون کو ویب سائٹ سے ہٹائے جانے کے بارے میں پیغام ملا ہو لیکن وہ یقین سے نہیں کہہ سکتی کہ اس کی وجہ کیا ہے۔

’یہ قدم ایک رد عمل ہے لیکن اس کی وجوہات کے بارے میں واضح نہیں ہے کہ آیا ہماری انتظامیہ پر کوئی بیرونی دباؤ تھا یا انھوں نے صرف حفظ ماتقدم کے تحت یہ فیصلہ کیا۔‘ فرح ضیاء کے مطابق آج کل کے دور میں اس قسم کی سنسرشپ سے خبر دبنے کے بجائے زیادہ پھیل جاتی ہے اور اس فیصلہ کے بعد بھی ایسا ہی ہوا۔

’سوشل میڈیا پر لوگوں نے اخبار کے تراشوں کی تصویر لگائی اور کئی نے تو یہ بھی کہا کہ اس کے بعد اخبار کی فروخت میں اضافہ ہو گیا ہوگا۔ اور پھر انٹرنیٹ پر کئی ایسے ذرائع ہیں جہاں آپ اپنے مضمون لگا سکتے ہیں اور سینسر کی زد میں آنے والے مضمون تو لوگ اور بھی زیادہ پڑھنا چاہتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

دوسری جانب ایسی صورتحال کا انگریزی اخبار دی نیشن کی کالم نویس گل بخاری کو بھی سامنے کرنا پڑا جب ان کا ہفتہ وار کالم شائع نہ ہوا جس میں انھوں نے پی ٹی ایم کے بارے میں لکھا تھا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے گل بخاری نے بتایا کہ انھیں ماضی میں کبھی کسی قسم کی سینسرشپ کا سامنے نہیں کرنا پڑا لیکن اس بار ان کے مدیر نے فون کر کے اطلاع دی کہ حالات کی حساسیت کی بنا پر وہ اس وقت اس مضمون کو شائع نہیں کر سکتے۔

’میں سمجھ سکتی ہوں کہ اخبار نے حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیوں لیا اور خود کو شہید کرانے سے بہتر ہے کہ حالات کو دیکھتے ہوئے ایک قدم پیچھے لے لیا جائے۔‘

گل بخاری نے بھی سینسرشپ کی افادیت کے بارے سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’آج کے دور میں سینسرشپ کا سہارا لینا بے وقوفی ہے اور معلومات کی ترسیل کے ذرائع بہت بڑھ گئے ہیں۔ یہ 70 اور 80 کی دہائی نہیں ہے۔‘

ماضی کی سینسرشپ کے بارے میں سوال پر پاکستان میں انسانی حقوق کے کمیشن (ایچ آر سی پی) کی رکن اور صحافی زہرہ یوسف نے بی بی سی کو بتایا کہ ضیا دور میں ہونے والی سینسرشپ سے گزرنے کے بعد ان کا خیال تھا کہ آزادی صحافت کو اب سلب نہیں کیا جا سکے گا۔

’میں نے خود ضیا کی آمریت کہ دور میں بطور صحافی کام کیا ہے لیکن اِس وقت ہونے والی سینسرشپ مجھے زیادہ خطرناک اور سازشی لگتی ہے کیونکہ چیزیں واضح نہیں ہیں اور شاید عدلیہ بھی اس سینسرشپ کے حق میں ہے۔‘

یہاں پر اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ حالیہ عرصے میں پاکستانی میڈیا اور صحافیوں کو ریاست کی جانب سے نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ سال غیر ملکی ادارے سے منسلک صحافی طحہٰ صدیقی کو ایف آئی اے کی جانب سے ’پاک فوج کو بدنام‘ کرنے کے الزام میں نوٹس بھیجا گیا تھا اور اس سال جنوری میں انھیں مبینہ طور پر اسلام آباد میں ائیر پورٹ جاتے ہوئے زود وکوب کیا گیا جس کے کچھ عرصے بعد انھوں نے اپنے خاندان کے ساتھ ملک بدری کا فیصلہ کر لیا۔

صحافی مبشر زیدی اپنے حال ہی میں شائع ہونے والے مضمون میں لکھتے ہیں کہ ’عسکری حکام سے ملاقات میں ملک کے سب سے بڑے چینل جیو کی انتظامیہ کو کہا گیا تھا کہ فوج اور عدلیہ پر تنقید کرنے والے صحافی اپنی روش میں تبدیلی لائیں۔‘

اس کے علاوہ مارچ کے آخر میں جیو چینل کی نشریات ملک بھر میں متاثر ہوئی جس پر چینل کے مینیجنگ ڈائریکٹر اظہر عباس نے کہا تھا کہ پورے ملک میں جیو کی نشریات 80 فیصد صارفین تک نہیں پہنچ رہی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
AFP

ملک کے وزیر داخلہ احسن اقبل نے اس بندش پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور پاکستان میں میڈیا کے انتظامات کے نگراں ادارے پیمرا نے جیو کی بندش کرنے والے دو بڑے کیبل آپریٹروں کے لائسنسوں کی معطلی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ جیو کی بندش پیمرا کے احکامات پر نہیں کی جا رہی لیکن وہیں جیو انتظامیہ کی جانب سے سوال اٹھایا گیا تھا کہ آخر یہ اقدامات کس کے کہنے پر کیے جا رہے ہیں۔

ان حالات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے زہرہ یوسف نے کہا کہ یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ لوگ خاموشی اختیار کرنے کے بجائے سوشل میڈیا کا سہارا لے رہے ہیں۔

’میں دیکھتی ہوں کے کئی لوگ ایسے چیزوں پر رپورٹنگ کرتے ہیں جو شاید اسٹیبلیشمنٹ کو پسند نہ آئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نظر آتا ہے کہ سیلف سینسرشپ بڑھتی جا رہی ہے اور کوئی بھی بات کرنے سے قبل یہ سوچا جاتا ہے کہ کہیں ایسا لکھنے سے میں مشکل میں تو نہیں پڑ جاؤں گی۔‘

نیوز آن سنڈے کی مدیر فرح ضیا نے بھی اس نکتے کی تائید کی۔

’یہ حقیقیت ہے کہ پاکستان میں صحافت کرنے میں ہمیں خود سیلف سینسرشپ کرنی پڑتی ہے اور اس سے کام لازمی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ چند سال قبل بھی ہمیں کہا گیا تھا کہ مضامین چھاپنے سے قبل احتیاط برتیں۔ ان سب فیصلوں سے کام متاثر ہوتا ہے اور یہاں پر سوال اٹھتا ہے کہ ایسا کب تک چلتا رہے گا؟ ‘



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply