16

آتش فشاں کے باعث کتنے لوگ مرتے ہیں؟

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ہوائی کے کیلاؤیا آتش فشاں سے پھیلنے والی تباہی کے فضائی مناظر

حال ہی میں امریکی ریاست ہوائی میں کلاؤیا آتش فشاں پھٹ پڑا جس سے دھویں کے بادل فضا میں دور تک پھیلے اور آس پاس لاوا کے گرم اور سرخ دریا بہنے لگے۔

اس واقعے کی تصاویر دنیا بھر میں دیکھی گئیں، ساتھ ہی یہ سوال بھی اٹھا کہ اس قسم کے آتش فشاں کتنے خطرناک ہیں؟

یہ بھی پڑھیے

ہوائی کے آتش فشاں کی ڈرامائی تصاویر

’یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟‘

دنیا کا سب سے بڑا قدرتی پریشر ککر

ہر سال دنیا بھر میں 60 کے قریب آتش فشاں پھٹتے ہیں۔ بعض کے بارے میں تو پہلے سے پتہ ہوتا ہے لیکن بعض سب کو چونکا دیتے ہیں۔

کلاؤیا کا شمار دنیا کے فعال ترین آتش فشانوں میں ہوتا ہے۔ اس سے لاوا بہہ کر لوگوں کے گھروں تک پہنچ گیا، تاہم صرف ایک شخص کے زخمی ہونے کی خبر آئی۔ وہ اپنی بالکونی پر بیٹھا تھا کہ ایک پگھلا ہوا پتھر ہوا میں اڑتا ہوا آیا اور اسے جا لگا۔

اس سے تو یہی لگتا ہے کہ شاید آتش فشاں کچھ زیادہ خطرناک نہیں ہوتے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آتش فشاں دنیا کے گنجان علاقوں میں پائے جاتے ہیں جہاں وہ ترقی یافتہ ہوائی سے زیادہ تباہی مچاتے ہیں۔

ماہرین کے تخمینے کے مطابق سنہ 1500 کے بعد سے اب تک دو لاکھ 80 ہزار افراد آتش فشانوں کے ہاتھوں لقمۂ اجل بنے ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ 70 صرف چھ آتش فشانی دھماکوں کا شکار ہوئے۔

سنہ 2000 کے بعد سے اب تک دو ہزار لوگ آتش فشانوں کی زد میں آ کر مارے گئے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہلاکتیں فلپائن، انڈونیشیا، کانگو اور جاپان میں ہوئی ہیں۔ پچھلے سال اٹلی میں چند سیاح ایک آتش فشاں کے دہانے میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اس وقت دنیا میں 80 کروڑ لوگ کسی فعال آتش فشاں سے 100 کلومیٹر کے دائرے میں بستے ہیں۔ یہ وہ فاصلہ ہے جو کسی بڑے آتش فشاں کی زد میں آ سکتا ہے۔ ان میں سے 20 کروڑ افراد کا تعلق انڈونیشیا سے ہے۔

آبادی بڑھنے کے ساتھ دنیا کے 81 ملکوں میں واقع 1500 فعال آتش فشانوں کے قریب ٹھکانہ بنانے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

‘فعال’ کا مطلب یہ نہیں کہ یہ تمام آتش فشاں کسی بھی وقت پھٹ سکتے ہیں۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ ان آتش فشانوں میں حال میں کسی قسم کی سرگرمی دیکھنے میں آئی ہے اور ان میں نئی سرگرمی بیدار ہو سکتی ہے۔

آتش فشاں کئی قسم کے خطرات کا باعث بنتے ہیں۔ ان میں سے سب سے نمایاں تو لاوا کا بہاؤ ہے۔ کلاؤیا سے بہہ نکلنے والا لاوا پانچ کلومیٹر دور تک چلا اور اپنے ساتھ مکانوں اور سڑکوں کو تباہ کرتا گیا۔ تاہم اس قسم کے لاوا سے زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوتیں۔

لاوا دراصل پگھلی ہوئی چٹانیں ہوتی ہیں جس کا درجۂ حرارت 1200 ڈگری سیلسئس تک ہوتا ہے اور یہ اپنی زد میں آنے والی ہر چیز کو ملیامیٹ کرتا ہوا چلتا ہے۔ لیکن خوش قسمتی سے اس کے بہنے کی رفتار بہت سست ہوتی ہے اور لوگ آسانی سے بھاگ کر اس سے بچ سکتے ہیں۔

زیادہ خطرناک آتش فشاں کے دہانے سے نکلنے والی گیسیں ہوتی ہیں۔ کیمرون میں 1986 میں ایک جھیل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ گیس خارج ہوئی۔ یہ گیس ہوا سے بھاری ہوتی ہے، اس لیے یہ کسی دریا کی طرح زمین پر بہتی ہوئی قریبی دیہات میں داخل ہو گئی اور ڈیڑھ ہزاروں لوگوں سوئے ہوئے لوگوں کو نیند میں دم گھونٹ کر مار ڈالا۔

اس سے بھی زیادہ ہلاکت خیز آتش فشاں سے نکلنے والا مادہ ہوتا ہے جسے ‘پائروکلاسٹک فلو’ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل گیس، راکھ اور کیچڑ کا ملغوبہ ہے جو عام طور مخروطی پہاڑوں سے خارج ہوتا ہے اور کسی برفانی تودے کی طرح تیزی سے بہتا ہوا آس پاس کے علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

اس کا درجۂ حرارت 700 ڈگری تک پہنچ جاتا ہے۔ گذشتہ 500 برسوں میں یہ ایک لاکھ 20 ہزار ہلاکتوں کا باعث بن چکا ہے۔

سنہ 79 میں اطالوی شہر پومپئے کی تباہی کا سبب بھی یہی پائرکلاسٹک فلو تھا۔

آتش فشاں سے بہہ نکلنے والے کیچڑ کو لاہار کہا جاتا ہے جو چٹانوں، درختوں اور مکانوں کو اپنی لپیٹ میں لے کر بہنا شروع کر دیتا ہے۔

1985 میں کولمبیا میں لاہار نے 25 ہزار لوگوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

بڑے آتش فشانی دھماکوں سے نکلنے والے دھویں اور راکھ کے بادل ہزاروں کلومیٹر تک پھیل سکتے ہیں جس سے ہوابازی کی صنعت متاثر ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

ماضی میں ایسے بڑے واقعات کے بعد قحط اور وبائیں پھیلتی رہی ہیں کیوں کہ گیسیں فضا میں شامل ہو کر موسمیاتی تبدیلیوں کا باعث بن سکتی ہیں۔

تاہم حالیہ برسوں میں سائنس کی ترقی کے باعث آتش فشاں سے ہونے والی تباہی کو بڑی حد تک روکنا ممکن ہو گیا ہے۔

سیٹیلائٹ کی مدد سے دنیا کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں کے آتش فشانوں پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور لوگوں کو بروقت خبردار کیا جا سکتا ہے۔

دنیا بھر میں پھیلی رصد گاہیں، بین الاقوامی تنظیمیں، ماہرینِ ارضیات اور امدادی ادارے مل کر ایسے واقعات کی پیش بینی، بچاؤ، روک تھام اور امدادی کارروائیوں میں شامل رہتے ہیں، جس سے ہزاروں زندگیاں بچائی جا رہی ہیں۔

لیکن اس کے باوجود بہرحال آتش فشاں کی دہشت اپنی جگہ برقرار ہے اور بنی نوعِ انسان کو ان کی ہمہ وقت نگرانی کی ضرورت ہے۔



Source link

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

Leave a Reply